.

عراق میں ایران کے 3 اہم دھڑوں کے بارے میں تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سال 2011 میں عراق سے امریکی انخلا کے بعد "مزاحمتی گروپس" کے نام سے ایک عنوان منظر عام پر آیا جو درحقیقت ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں کا مجموعہ ہے۔ عراق سے امریکی انخلا جولائی 2011 میں بغداد اور واشنگٹن کے بیچ ایک تزویراتی معاہدے کے تحت عمل میں آیا۔ تاہم عراق میں متعدد شیعہ ملیشیاؤں نے اس پروپیگنڈے کو رواج دیا کہ انہوں نے قابض امریکی افواج کو ملک سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔

امریکی افواج کے ساتھ گھمسان کی لڑائی کرنے والے نمایاں شیعہ گروپوں میں عراق میں حزب اللہ بریگیڈز، عصائب اہل الحق موومنٹ (قیس الخزعلی کی قیادت میں)، جيش مہدی (مقتدی الصدر کی قیادت میں) اور سيد الشہداء بریگیڈز (ابوآلاء الولائی کی قیادت میں) شامل ہیں۔ معلوم رہے کہ ہادی العامری کی قیادت میں بدر تنظیم اس گروپ میں سیاسی طور پر شامل ہوئی تھی تاہم اس نے امریکیوں کے خلاف لڑائی میں حصہ نہیں لیا۔

عراق میں حزب اللہ بریگیڈز

عراقی دارالحکومت بغداد کے مشرق میں واقع الصدر سٹی مذہبی مراجع کے لیے پر کشش میدان رہا ہے۔ ان میں نمایاں ترین نام محمد محمد صادق الصدر (مقتدی الصدر کے والد جن کو 1999 میں ہلاک کر دیا گیا تھا) کا ہے۔ الصدر سٹی کی آبادی 40 لاکھ کے قریب ہے۔ اس علاقے میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نمائندگی بھی رہی ہے۔ سال 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے سقوط کے بعد ایران نے عراق میں اپنے سپریم لیڈر کے پیروکاروں کو تہران کے سیاسی مفادات اور منصوبوں کی تکمیل کے واسطے استعمال کیا۔

اس سلسلے میں سکیورٹی امور کے ماہر لوئی حافظ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں بتایا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک اہم ونگ القدس فورس نے خامنہ ای کی مذہبی خطوط کی معاونت سے عراق میں امریکی وجود کے خلاف مزاحمت کے لیے مسلح گروپس تشکیل دیے۔ اس حوالے سے سب سے پہلے عراق میں حزب اللہ بریگیڈز کے نام سے گروپ بنایا گیا جو تنظیمی طور پر لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ مربوط ہے۔ اس بریگیڈ کی قیادت نامعلوم ہے مگر اس کی مجلس شوری ہے اور "الخال سلام" (ماموں سلام) کے فرضی نام سے اس مجلس کا ایک سربراہ بھی ہے۔

عراق میں حزب اللہ بریگیڈز نے کسی بھی موقع پر عراقی حکومت اور امریکی مخالف مسلح گروپوں کے درمیان جنگ بندی کی پاسداری نہیں کی۔

لوئی حافظ کے مطابق ماموں سلام اور اس کے گروپ کو خاص طور پر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی جانب سے احکامات ملتے ہیں۔ عراق کی کوئی مذہبی یا سیاسی شخصیت اس کے کام میں مداخلت نہیں کرتی۔ اس گروپ کی نمایاں ترین اور شرم ناک کارروائی 2016 میں تھی جب اس نے جنوبی عراق میں السماوہ کے دیہی علاقے میں دو غیر ملکی شکاریوں کو اغوا کر لیا تھا۔ لوئی کا کہنا ہے کہ بغداد میں گرین زون پر داغے جانے والے اکثر راکٹ اور میزائلوں پر اسی بریگیڈ کی چھاپ ہوتی ہے۔

عصائب اہل الحق

سال 2007 میں سابق وزیراعظم نوری المالکی کے حکم پر عراقی فورسز نے صولت الفرسان کے نام سے آپریشن انجام دیا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں متقتدی الصدر کی الصدر ملیشیا کے متعدد رہ نما گرفتار ہوئے۔ ان میں نمایاں ترین قيس الخزعلی (مقتدی کا دست راس)، لیث الخزعلی (قیس کا بھائی)، عدنان فيحان (حالیہ پارلیمںٹ میں العصائب کے بلاک کا سربراہ) اور عبدالہادی الدراجی (مذہبی شخصیت جو اب سیاست سے کنارہ کش ہو گئی) تھے۔

اس سلسلے میں الصدر گروپ کے ایک سابق رہ نما نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے جیش مہدی کی زیادہ تر قیادت کو گرفتار کر کے انہیں جنوبی شہر بصرہ کی بندرگاہ ام قصر کے اطراف میں واقع بوکا جیل میں ڈال دیا تھا۔ اس جیل میں سنی اور شیعہ دونوں رہ نما قید تھے جن میں ابو بکر البغدادی بھی شامل تھا۔ جیل کے اندر مذہبی اور سیاسی حلقوں کا انعقاد ہوتا تھا۔ جیل کے پہرے داروں کے تعاون سے بیرونی فریقوں کے ساتھ رابطے بھی تھے جو رشوت کے ذریعے بآسانی انجام پاتے تھے۔ قیس الخزعلی ایران سے مال اور ہتھیار کی شکل میں فنڈنگ اور لوجسٹک سپورٹ کے حصول کے لیے مقتدی الصدر کا ذریعہ تھا۔

سابق الصدری رہ نما نے باور کرایا کہ بعد ازاں ایرانیوں نے الخزعلی کو قائل کر لیا کہ وہ مقتدی الصدر سے علاحدہ ہو جائے اور اپنی سربراہی میں ایک مسلح جماعت قائم کرے۔ ابتدا میں اس جماعت کو "المجاميع الخاصہ" کا نام دیا گیا۔ یہ 2007 کے اواخر کی بات ہے اور مذکورہ جماعت اس وقت بغداد اور عراق کے جنوب میں امریکی اور برطانوی اڈوں کو نشانہ بناتی تھی۔ عصائب اہل الحق (سابقہ المجاميع الخاصہ) گروپ نے عراق میں کئی مسلح کارروائیوں کے علاوہ مقامی اور بین الاقوامی ذمے داران کے قتل اور اغوا کی کارروائیاں انجام دیں۔

عراقی انٹیلی جنس کے ایک سیکورٹی ذریعے کے مطابق عصائب اہل الحق جماعت نے 2007 میں عراقی وزارت پر دھاوا بول کر 3 برطانوی یرغمالیوں کو قتل کر ڈالا اور چوتھے کو اغوا کر لیا۔ اسی سال کے دوران عصائب اہل الحق نے کربلا شہر میں مقامی حکومت کے دفتر پر حملہ کیا اور پانچ امریکی فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔

سیکورٹی ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ غیر ملکی افواج پر غیر متوقع حملے نے اس وقت کے وزیراعظم نوری الملکی کی عراقی حکومت کو مجبور کر دیا کہ وہ سلام المالکی کے ذریعے عصائب اہل الحق کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھولے۔ الصدری گروپ کی سابق شخصیت سلام المالکی 2004 میں ابراہیم الجعفری کی حکومت میں وزیر ٹرانسپورٹ رہ چکے ہیں۔

یاد رہے کہ عصائب اہل الحق موومنٹ ،،، الفتح الائنس (ہادی العامری کی سربراہی میں) کے اندر سیاسی وزن رکھتی ہے۔ پارلیمںٹ میں العصائب کا سیاسی بلاک "صادقون" نام سے ہے۔ اس کے ارکان پارلیمنٹ کی تعداد 15 ہے جب کہ حکومت میں دو وزراء بھی ہیں۔

بدر تنظیم

بدر تنظیم ،،، عراقی اسلامک سپریم کونسل جماعت کا سابق عسکری ونگ تھا۔ ہادی العامری کی سربراہی میں یہ تنظیم اب کونسل سے علاحدہ ایک خود مختار سیاسی وجود کی حیثیت رکھتی ہے۔

سال 2003 میں عراقی اسلامک سپریم کونسل کے سربراہ عمار الحکیم کے ساتھ اختلاف کے بعد العامری اپنی جماعت سے منحرف ہو گیا۔ اس نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے لیے اعلانیہ طور پر وفاداری کا اظہار کر دیا۔ العامری نے نوری المالکی کی دوسری بار حکومت (2010-2014) کو سپورٹ کیا جس کو ایران کا آشیرباد حاصل تھا۔ تاہم عمار الحکیم نے المالکی کی حمایت سے انکار کر دیا تھا۔

عراق کی جامعہ واسط میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر کمال الوائلی کے مطابق بدر تنظیم نے نوری المالکی کی دوسری بار حکومت میں وزارت ٹرانسپورٹ حاصل کی۔ وہ ولایت فقیہ کے لیے اپنے نظریاتی خطاب کو اپنا کر بنیاد پرستی کے سابقہ ماحول کی جانب لوٹ آئی۔ العامری کی جانب سے عمار الحکیم کی سیاسی ردا س باہر آنے کی وجہ علی خامنہ ای کے احکامات کے سامنے فقہی جھکاؤ تھا۔ نوری المالکی نے بہارِ عرب کے واقعات اور شام کی صورت حال کے بعد ایران کی صفوں میں کھڑا ہونا پسند کیا۔

الوائلی کا کہنا ہے کہ ہادی العامری نے عراق میں داعش تنظیم کے داخلے سے فائدہ اٹھایا۔ اس نے شیعہ نوجوانوں کو اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف جنگ کے واسطے عسکری کیمپوں میں بھرتی کیا۔ ایران ،،، العامری اور مزاحمتی محور میں شریک دیگر گروپوں کے لیے پلیٹ فارم بن گیا۔ اس پلیٹ فارم سے انہوں نے مل کر ملک میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا۔