.

عوام فاقوں کا شکار، ایرانی فوجی اور مذہبی اداروں پر ڈالروں کی بارش

عوامی احتجاج کے باجود فوجی اورمذہبی تنظیموں کے بجٹ میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے خمینی انقلاب کو برآمد کرنے کے لیے فوجی اور مذہبی اداروں ، مذہبی درسگاہوں اوران کےبیرون ملک مراکز کا بجٹ بڑھا دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ کو "انسداد پابندیوں کا بجٹ" نام دیتی ہے اور اس پر اتوار کے روز ایرانی پارلیمنٹ میں بحث کی گئی۔

ایران کے مذہبی اداروں کے بجٹ میں اضافہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ ماہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی حالات کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع ہوا تھا جسے ایرانی حکومت نے طاقت کے ذریعے دبا دیا۔

فری مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت کے اعتبار سے ایران کا مجوزہ بجٹ 37 ارب ڈالر جب کہ ایرانی کرنسی کے اعتبار سے 115 ارب ڈالر ہے۔ اس بجٹ میں ایک خطیر رقم فوجی اور مذہبی اداروں کے لیے مختص کی گئی ہے۔

فوجی بجٹ میں اضافہ

ایرانی صدر حسن روحانی کی حکومت نے ایران کے فوجی بجٹ میں تقریبا ساڑھے چار ارب ڈالر کا اضافہ کیا ہے۔ کل بجٹ کا ایک اعشاریہ پانچ فی صد سپاہ پاسداران انقلاب کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ایرانی فوج کے لیے ایک ارب ڈالر، داخلی سلامی کی ذمہ دار فورس کے لیے ایک ارب ڈالر اور بسیج ملیشیا کے لیے 9 لاکھ 20 ہزار ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاسداران انقلاب کے پاس دیگر بیرونی بجٹ موجود ہیں جو حکومت کے باہر ہیں اور ان کا کوئی حساب کتاب نہیں۔ یہ اضافی بجٹ 1990 کے دہائی سے پاسدارا انقلاب کے زیرانتظام چلنے والے مالیاتی اور معاشی اداروں کی طرف سے آتے ہیں ۔ان میں "خاتم الانبیاء " ہیڈ کوارٹر اور دیگراندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری سے سالانہ اربوں ڈالر کی رقم پاسداران ان انقلاب کو جاتی ہے۔

مذہبی اداروں کے لیے وافر رقم

ایران کے آئندہ مال سال کے بجٹ میں دینی مدارس کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ "مصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی" کے لیے اس بجٹ میں تین ارب 73 کروڑ 20 لاکھ امریکی ریال کی رقم مختص کی گئی ہے جو کہ امریکی کرنسی میں 26 ملین ڈالر کے برابر ہے۔ رواں سال اس بجٹ میں 12 ارب تومان کا اضافہ کیا گیا۔

یہ یونیورسٹی قُم شہر میں سنہ 2008ء میں قائم کی گئی تھی جس کا مقصد ایرانی انقلاب اور ولایت فقیہ کے نظام کو غیرملکی طلباء کےذریعے بیرون ملک پہنچانا ہے۔

اس کے علاوہ ایرانی بجٹ میں "اسلامی ثقافت اور مواصلات کی تنظیم" کے لیے 241 ارب تومان مختص کیے ہیں ، جو تقریبا 20 ملین ڈالر کے برابر رقم ہے۔

"ایران سے باہر ثقافتی اور مذہبی پروپیگنڈہ مرکز" تیسرے نمبر پر ہے جس کے لیے 37 ارب تومان کا بجٹ رکھا گیا۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم تین لاکھ ڈالر کے برابر ہے۔

'اھل بیت انٹرنیشنل کمپلیکس' کے لیے 33 لاکھ اور 'اہل بین الاقوامی یونیورسٹی" کے لیے 900 لاکھ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔