.

شمالی شام میں ایک ملین افراد کو آباد کرنا انتہائی خطرناک ہے: کرد فورس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں سرگرم کرد ڈیموکریٹک فورسز کے سربراہ مظلوم عبدی نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی کی طرف سے شمالی شام میں ایک ملین لوگوں کو زبردستی آباد کرنا انتہائی خطرناک ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اعلان کیا تھا کہ وہ شمالی شام کے شہروں تل ابیض اور راس العین میں ایک ملین افراد کو آباد کریں گے۔ یہ تمام لوگ شام سے نقل مکانی کرکے آنے والے پناہ گزین ہیں۔

مظلوم عبدی کا کہنا ہے کہ شمالی شام میں پناہ گزینوں کو زبردستی آباد کرنا نا انصافی اور انتہائی خطرناک ہوگا۔ یہ لوگ وہاں کے شہری نہیں بلکہ دوسرے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی تل ابیض اور راس العین میں آباد کاری کا کوئی جواز نہیں۔

کرد عہدیدار نے امریکا اور روس پر زور دیا کہ وہ ترکی کو شمالی شام میں جبری آباد کاری اور آبادی کے توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش ناکام بنائیں۔ انہوں نے ماسکو اور واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ شامی پناہ گزینوں کو اپنے اپنے علاقوں میں واپس بھیجنے کے لیے کیے گئے اپنے وعدے پورے کریں۔

خیال رہے کہ سوموار کے روز ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا تھا کہ شمال مشرقی شام کے شہروں تل ابیض اور راس العین میں ایک ملین افراد کی آباد کاری کا عمل شروع کردی گیا ہے۔

یہ دونوں علاقے اکتوبر میں ترک فوج نے ایک آپریشن کے دوران کرد فورسز سے چھین لیے تھے اور ترکی نے ان علاقوں میں شامی پناہ گزینوں کے لیے ایک سیف زون کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

ترکی کا کہنا ہے کہ وہ 36 لاکھ شامی پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ اس بوجھ کو کم کرنے کے لیے وہ پناہ گزینوں کو شام کی سرزمین پر واپس بھیج رہا ہے۔

ترک صدر نے پناہ گزینوں کے حوالے سے یورپی ممالک کی طرف سے کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عاید کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی اور اس کی سرحد پر 9 ملین پناہ گزین موجود ہیں۔ یورپی یونین کی طرف سے پناہ گزینوں کی واپسی اور ان کے یورپ میں داخلے کی روک تھام کے لیے 3 ارب یورو سے زیادہ رقم نہیں دی گئی جب کہ ترکی پناہ گزینوں پر 40 ارب ڈالر کی رقم خرچ کرچکا ہے۔