.

شوہر سےطلاق اور آشنا سے شادی کے لیے خاتون نے اپنے دو کم سن بچے مار ڈالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماں کی 'مامتا' ایک ضرب المثل اور ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی ماں شوہر کو چھوڑ کرکسی آشناء کے پیچھے بھاگنےکے لیے اپنے ہی بچوں کو قتل کر ڈالے۔ تاہم مصر میں ایک ایسا ہی ایک المناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک خاتون نے پہلے سے شوہر سے چھٹکارا پانے اور آشنا سے شادی کے لیے اپنے دو کم سن پھول جیسے بچوں کو موت کےگھاٹ اتاردیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ الدقھلیہ گونری میں 30 اکتوبر کو پیش آیا۔ خاتون نے تین سالہ بچی ریماس کو قتل کیا مگر کسی کو اس کی موت پر کوئی شک نہیں گذرا۔ بچی کو دفن کردیا گیا۔

ایک ماہ کے اندر اندر اس کا بھائی 5 سالہ جمال بھی فوت ہوگیا۔ اسے بھی اس کی ہمشیرہ کے پہلو میں سپرد خاک کردیا گیا۔ دونوں بچوں کی اس طرح موت پر اس کےوالد کوبہت گہرا صدمہ پہنچا۔ بچوں کی ماں 24 سالہ لمیاء بھی بہ ظاہر بچوں کی وفات پر بہت روئی پیٹی۔

دوسرے بچے کی وفات کے ایک ہفتے کے بعد لمیاء نے شوہر عبدالعزیز رافت سے خلعہ کا مطالبہ کردیا۔

رافت نے وہ گھر چھوڑکر اپنے خاندان کے گھر میں قیام کا فیصلہ کیا تاکہ اس کی بیوی کے ساتھ جاری رنجش ختم ہوجائے اور وہ پھر سے ازدواجی زندگی شروع کرسکے مگر خاتون نے اس سے پھر طلاق کا مطالبہ کیا۔

گھر میں اچانک اسے امراض قلب کے مریضوں کے استعمال کی ایک دوائی ملی۔ اسے شک ہوا کہ یہ دوائی کیسی ہے اور کس نے استعمال کی ہے کیونکہ اس کی بیوی دل کی مریضہ نہیں تھی۔ وہ اس دوائی کو لے کر قریب ایک میڈیکل اسٹور پرگیا۔ اسٹور کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ یہ دوائی دل کی بیماری کے لیے بڑی عمر کےافراد کے استعمال کے لیے تیار کی گئی ہے۔وہاں سے عبدالعزیز رافت کو شک گذرا کہ اس کی بیوی اس کے ساتھ خیانت کررہی ہے۔ اس نے فوری طور پر پولیس سے رجوع کیا اور اس معاملے کی تحقیقات کی درخواست کی۔ پولیس نے خاتون کو تفتیش کے لیے طلب کیا اور پوچھ گچھ کے دوران اس نے سب بتا دیا کہ وہ ایک اور شخص سے شادی کرنا چاہتی ہے اور اس نے دونوں بچوں کو دل کی بیماری کی غیرمعمولی مقدارمیں دوائی پلائی جو ان کے لیے زہرقاتل بن گئی۔ اس کا کہنا تھا کہ میں نے شوہر اور اس کے خاندان سے علاحدگی کی درخواست کی مگرانہوں نے میری بات نہیں مانیں جس کے بعد میں یہ انتہائی قدم اٹھایا۔

سفاک خاتون نے اعتراف کیا کہ اس نے اسپتال سے دل کی دوائی لی اور اسے پہلے بچی کو پلایا۔ اس دوائی کے نتیجے میں خون کی گردش بہت زیادہ تیز ہوئی اور اس کے نتیجے میں بچی موت سے ہم کنار ہوگئی۔ اس کے ایک ماہ بعد اس نے یہی کام بچے کے ساتھ کیا مگر کسی کو اس کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہوا۔

یہ دوائی جس اسٹور سے لی گئی تھی اس سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔ اسٹور مالکان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ خاتون دوائی بچوں کو پلانے اور انہیں مارنے کے لیے خرید رہی ہے۔ اس نے نسخہ دکھایا اور اس کی روشنی میں اسے دوائی دی گئی تھی۔

پولیس نے واس واقعے کی تحقیقات کے بعد خاتون کو حوالات میں بند کردیا ہے۔ جلد ہی اس حوالے سے عدالت اس کے خلاف سخت سزا سنانے کی تیاری کررہی ہے۔