.

معذور مصری نکاح خواں شادی کی دستاویزات کس طرح لکھتا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل کے مارننگ شو "صباح العربیہ" میں ایک مصری نکاح خواں کی زندگی پر رپورٹ پیش کی گئی۔ المنوفیہ صوبے کے گاؤں تلا میں سکونت پذیر نکاح خواں مصطفی دویدار جسمانی طور پر معذوری کا شکار ہے۔ تاہم اس نے اپنی اس معذوری کو چیلنج کرتے ہوئے نارمل زندگی گزارنے کا عزم کیا۔ مصطفی مصری حکومت کی جانب سے منظور شدہ نکاح خواں کے طور پر کام کرتا ہے اور لوگوں کے نکاح ناموں کو اپنے منہ کی مدد سے تحریر کرتا ہے۔

مصطفی نے اپنی پیدائشی معذوری کو پچھاڑ دیا اور زندگی میں آگے بڑھنے میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ اس نے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے المنوفیہ یونیورسٹی سے قانون کے شعبے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

مصطفی کو ڈرائنگ میں خداداد صلاحتیں حاصل ہیں اور وہ اس کے ذریعے روزی کماتا ہے۔ اس کے علاوہ مصطفی کو کمپیوٹر اور موبائل پروگرامنگ میں بھی عبور حاصل ہے۔ وہ ڈرائنگ اور رضاکارانہ کاموں کے حوالے سے متعدد انعامات بھی حاصل کر چکا ہے۔

مصطفی نے صباح العربیہ شو میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے گاؤں میں حکومت کا منظور شدہ نکاح خواں فوت ہو گیا تھا جس کے بعد مصطفی نے بطور منظور شدہ نکاح خواں کام کرنا شروع کیا۔ مصطفی کو معلوم تھا کہ قانون کے شعبے میں ڈگری کے حامل افراد منظور شدہ نکاح خواں بننے کا حق رکھتے ہیں۔

مصطفی کے مطابق اسے اپنی معذوری کے سبب نارمل زندگی گزارنے میں کبھی مشکل پیش نہیں آئی۔ اس نے اپنا تعلیمی اور عملی کیرئر جاری رکھا۔ مصطفی نے بتایا کہ اسے اپنے والدین کی جانب سے بہت زیادہ سپورٹ حاصل رہی۔