.

امریکا نے چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے کرلیا، صدر ٹرمپ کی منظوری کا انتظار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات کے روز بلومبرگ نے ایک رپورٹ میں بتای ہے کہ امریکا اور چین تجارتی معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا ہے اور معاہدے کے اصول بھی وضع کرلیے ہیں تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اس کی منظوری باقی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی کا ایک مرحلہ باقی ہے اور وہ صدر ٹرمپ کی طرف سے اس کی منظوری ہے۔

"بلومبرگ" کا کہنا ہے کہ اسے چین اور امریکا کےدرمیان ممکنہ سمجھوتے کے حوالے سے باخبر ذرائع کی طرف سے اطلاع دی گئی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے جمعرات کے روز خبر دی تھی کہ امریکی انتظامیہ نے چین کے ساتھ تجارتی شعبے پر مذاکرات کے دوران نئے ٹیکس لگانے کے منصوبوں کو ختم کرنے علاوہ چین سے تین ارب 60 کروڑ ڈالر کا سامان برآمد کرنے پر مزید کوئی ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم چین کے ساتھ تجارتی معاہدے کے بہت قریب ہیں۔ ہم اور چین دونوں تجارتی معاہدہ چاہتے ہیں۔

ایک اور ذریعے نے "رائٹرز" نیوز ایجنسی کو بتایا کہ توقع ہے کہ ٹرمپ آج اپنے اعلی تجارتی مشیروں سے ملاقات کرکے نئی کسٹم فیس عائد کرنے کی 15 دسمبر کی تاریخ پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اس کے بدلے میں چینی وزارت تجارت نے کہا تھا کہ چین اور امریکا تجارت کے سلسلے میں قریبی رابطے میں ہیں لیکن اگر واشنگٹن نے اگلے ہفتے کے شروع میں چینی سامان پر ڈیوٹی لگائی معاہدے کی کوششیں متاثر ہوں گی تاہم چین نے ممکنہ جوابی اقدامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

امریکا نے آئندہ اتوار کو چینی برآمدات پر ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی نئی ڈیوٹی لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس میں الیکٹرانکس، کھیلوں کا سامان، کمپیوٹر مانیٹر اور کھلونے شامل ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ امریکی وزیر خزانہ اسٹیفن منوچن تجارتی مشیر رابرٹ لایٹزر، مشیر لیری کڈلو اور پیٹر نیارو صدر ٹرمپ کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے مگر اس میں حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ ہی کا ہوگا۔