.

بصرہ: عراقی مظاہرین کے ہاتھوں خمینی کے نام سے منسوب سڑک کا نام تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں جمعے کے روز مظاہرین نے ایرانی انقلاب کے سرخیل کے نام سے منسوب سڑک "شارع خمينی" کا نام بدل کر " شارع شہداء كتوبر" کر دیا۔

بصرہ میں مظاہرین اس سے پہلے تین مرتبہ مذکورہ نام پر احتجاج کرتے ہوئے "شارع خمينی" کا سائن بورڈ جلا چکے ہیں۔

عراق میں حالیہ عوامی احتجاج کی لہر اٹھنے کے بعد سے مظاہرین ایرانی نفوذ کے خلاف مذمتی عبارتیں بھی اٹھائے ہوئے نظر آتے ہیں اور اسے ایرانی قبضے کا نام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ عراق کی سڑکوں اور کھلے مقامات پر نکلنے والے زیادہ تر مظاہروں میں "ایران باہر باہر" کے نعروں کی بازگشت بھی واضح طور پر سنائی دیتی ہے۔

تہران اس وقت عراق میں بھڑکی مظاہروں کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس مقصد کے لیے القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی نہایت سرگرم ہے اور حالیہ عرصے میں اس نے عراق کے دوروں کا سلسلہ بڑھا دیا ہے۔

عراق میں حکومت مخالف احتجاج شروع ہونے کے ایک روز بعد ہی قاسم سلیمانی نے دارالحکومت بغداد کا رخ کیا۔ وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے گرین زون کے سخت سیکورٹی والے علاقے میں اترا۔ یہاں بہت سے عراقی سینئر سیکورٹی ذمے داران اس وقت حیران رہ گئے جب عراقی وزیراعظم کے بجائے سلیمانی نے اجلاس کی صدارت کی !

سلیمانی نے عراقی ذمے داران کو بتایا کہ "ہم ایران میں جانتے ہیں کہ احتجاجی مظاہروں کے ساتھ کس طرح سے نمٹا جاتا ہے۔ ایران میں یہ ہو چکا ہے اور ہم نے اس پر قابو پا لیا"۔ یہ بات اجلاس کی کارگزاری سے مطلع سینئر عراقی ذمے داران نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی۔

سلیمانی کے دورے کے اگلے روز ہی عراق میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان انتہائی پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔

یکم اکتوبر سے جاری عوامی احتجاج اور غیض و غضب نے بغداد اور عراق کے جنوبی شہروں کو خاص طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مظاہرین کے مطالبات کا آغاز بدعنوانی کے خاتمے، روزگار کے مواقع یقینی بنانے اور معاشی حالات بہتر بنانے سے ہوا تھا۔ تاہم جلد ہی مظاہرین کے مطالبات میں ،،، ملک میں 16 برس سے قائم سیاسی نظام کی جامع تبدیلی کا مطالبہ شامل ہو گیا۔

یاد رہے کہ اب تک مظاہروں کے خلاف سیکورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں 300 سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ان میں زیادہ تر ہلاکتیں براہ راست گولہ بارود کے استعمال، ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کے گولے داغے جانے سے ہوئیں۔