.

عراق میں مظاہروں میں سیکڑوں ہلاکتیں، سلامتی کونسل کا تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق میں حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف پرتشدد واقعات اور کریک ڈاؤن کے حوالے سے تحقیقات کرائیں۔ اس سے قبل عراق میں انسانی حقوق کے کمیشن نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں جاری عوامی مظاہروں اور احتجاج میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ سماجی کارکنان کے اغوا اور قتل کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہفتے کے روز سلامتی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "سلامتی کونسل کے ارکان نے (عراق میں) مظاہرین کی ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، اسی طرح نہتے مظاہرین کے خلاف قتل اور جبری گرفتاریوں کا کارروائیاں بھی باعث تشویش ہیں"۔

سلامتی کونسل نے باور کرایا کہ اسے عراق میں مظاہرین کو قتل کرنے اور نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں مسلح جماعتوں کے ملوث ہونے پر بھی نہایت تشویش ہے۔

یاد رہے کہ یکم اکتوبر کو دارالحکومت بغداد اور جنوبی صوبوں میں بھرپور احتجاجی مظاہروں کے آغاز کے بعد سے عراق میں پرتشدد واقعات دیکھے جا رہے ہیں۔ اس دوران کئی مقامات پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ بھی کی گئی۔ اس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے حوالے سے دو خبر رساں ایجنسیوں رائٹرز اور اے ایف پی نے طبی ذرائع اور عراقی پولیس کے ذمے داران کے حوالے سے بتایا کہ مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 400 سے زیادہ ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ عراقی دارالحکومت بغداد اور جنوبی شہروں میں تقریبا ڈھائی ماہ سے جاری عوامی احتجاج ،،، 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق میں حکمراں سیاسی طبقے کو درپیش مشکل ترین چیلنج کی صورت اختیار کر گیا ہے۔