عراق میں امریکی فوج کے اڈوں پرحملے بند کیے جائیں : وزیر دفاع مارک ایسپر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کے وزیر دفاع مارک ایسپر نے عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی پر زوردیا ہے کہ ملک میں امریکی فوج کے اڈوں پر حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

مارک ایسپر کے اس مطالبے سے قبل گذشتہ ہفتے امریکی فوج کے ایک سینیر عہدہ دار نے خبردار کیا تھا کہ عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے امریکی فورسز کے اڈوں پر حملوں سے کشیدگی کنٹرول سے باہر ہوسکتی ہے۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران میں عراق میں امریکی فوج کے اڈوں پر راکٹ حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن کسی گروپ نے اب تک حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔تاہم امریکا کے فوجی حکام نے انٹیلی جنس اطلاعات اور راکٹوں کے فورینزک تجزیے کی بنیاد پر کہا ہے کہ یہ حملے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ شیعہ جنگجو گروپ کررہے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع نے سوموار کے روز عراقی وزیراعظم سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور ان سے امریکی فوجیوں کے اڈوں پر بڑھتے ہوئے راکٹ حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔عراقی وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’مارک ایسپر نے ان حملوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کی ضرور پر زوردیا ہے۔‘‘

بیان کے مطابق عراق کے نگران وزیراعظم نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یک طرفہ کارروائی کے منفی مضمرات ہوں گے۔انھیں کنٹرول کرنا مشکل ہوگا اور ان سے عراق کی خود مختاری کو بھی نقصان پہنچے گا۔

عادل عبدالمہدی دارالحکومت بغداد اور جنوبی شہروں میں عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد گذشتہ ماہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے مستعفی ہوگئے تھے اور اس وقت وہ نئے وزیراعظم کے انتخاب تک نگراں حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اس وقت سخت کشیدگی پائی جارہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ سال مئی میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور پھر نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔ایران اب امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف عراق یا دوسرے ممالک میں گماشتہ جنگیں لڑ رہا ہے۔طرفین نے ایک دوسرے پر تیل کی تنصیبات ، ملیشیا کے اسلحہ ڈپوؤں اور امریکی فورسز کے اڈوں پرحملوں کے الزامات عاید کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں