خامنہ ای کے مشیر کی دوسرے ممالک کو تیل کی برآمدات روکنے کی دھمکی

ایرانی تیل کی برآمدات سنہ 1980ء کے بعد کم ترین سطح پرآ گئی: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت نہ دی گئی تو تہران دوسرے ممالک کو بھی تیل برآمد کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

خیال رہے کہ ایرانی مشیر کی طرف سے یہ دھمکی آمیز بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف ایرانی تیل کی درآمدات بدترین کمی کا شکار ہیں اور ایران مشکل ترین معاشی بحران سے گذر رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی'رائٹرز' نے حال ہی میں ایک تحقیقی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چند ماہ قبل سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے ایران کی منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے تھے۔ ان حملوں کے لیےایرانی حکومت نے ڈرون طیاروں کے استعمال کا فیصلہ کیا تھا۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے لیے تہران میں ایک فول پروف سیکیورٹی کی حامل عمارت میں پاسداران انقلاب کے اہلکاروں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کا اجلاس ہوا جس میں سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ بظاہر ایران، آرامکو کمپنی کی تیل کی تنصیبات پرحملوں کی سختی سے تردید کرتا چلا آ رہا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا کی طرف سے ایرانی تیل پر عاید کردہ اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی تیل کی سپلائی اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن 80 فی صد کم ہوچکی ہے۔

حال ہی میں ایران کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی برائن ہک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایرانی لیڈر سنہ 1980ء کے بعد پہلی بار فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئے ہیں۔ انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ اپنی معیشت کو بچانا ہے یا ملک کو تباہی کی طرف لے جانا ہے۔ اگر وہ ملک کو بچانا چاہتے ہیں تو انہیں مذاکرات کی میز پرآنا ہوگا۔

برائن ہوک کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کو کسی فوجی مہم جوئی کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے امریکا کے بارے میں کوئی غلط اندازہ لگایا تو اسے اس کی اس حماقت کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی درآمدات میں کمی نے ایرانی رجیم کو ہلا کررکھ دیا ہے۔ تیل کی درآمدات میں حالیہ کمی 1980ء کے بعد کی سب سے بڑی کمی ہے جس کے نتیجے میں ایران تیل کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن کے 80 فی صد سے محروم ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں