.

شامی فوج کی شمال مغربی صوبہ ادلب میں بمباری، 14 شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں اسد رجیم کی فوج کے فضائی حملوں اور توپ خانے سے گولہ باری سے چودہ شہری ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ اسدی فوج نے منگل کے روز باغیوں کے زیر قبضہ صوبہ ادلب میں واقع ایک گاؤں بدما میں توپ خانے سے گولہ باری کی ہے جس سے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے چھے افراد مارے گئے ہیں۔ان میں ایک خاتون اور اس کے تین بچّے شامل ہیں۔

اسی صوبے میں واقع ایک گاؤں معاصران میں فضائی حملے میں چار شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ چار اور افراد ادلب کے مختلف علاقوں میں شامی فوج کے فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ ادلب میں اس وقت قریباً تیس لاکھ افراد رہ رہے ہیں۔اس صوبے پر اس وقت ماضی میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم کی قیادت میں مختلف باغی گروپوں کا کنٹرول ہے اور یہاں شام کے دوسرے صوبوں سے ماضی قریب میں اہلِ سُنت کی آبادی کو نقل مکانی کے بعد لابسایا گیا ہے۔

شامی اور روسی فوج نے اپریل میں بھی ادلب میں باغی گروپوں کے خلاف ایک تباہ کن جنگی کارروائی تھی جس کے نتیجے میں ایک ہزار افراد مارے گئے تھے اور کم سے کم چار لاکھ بے گھر ہوگئے تھے۔

بشارالاسد کے پشتیبان روس نے 31 اگست کو ادلب میں باغیوں اور اسد رجیم کے درمیان ثالثی کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن اس نے خود اور اس کے اتحادی شامی صدر بشارالاسد کی فوج نے ادلب میں باغیوں کے خلاف کارروائی کے نام فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رصدگاہ کے مطابق جنگ بندی کے اس اعلان کے بعد سے ادلب میں شامی اور روسی فوج کے فضائی حملوں میں دو سو سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوچکے ہیں۔