ایرانی وزیر داخلہ کا فائرنگ سے مظاہرین کی ہلاکتوں کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے عوامی احتجاج کے دوران براہ راست فائرنگ سے مظاہرین کی ہلاکتوں کا اعتراف کیا ہے۔ اصلاح پسند رکن پارلیمنٹ محمود صادقی کے مطابق فضلی کا یہ اعتراف پارلیمنٹ کے ایک اجلاس کے دوران سامنے آیا۔

محمود صادقی نے منگل کے روز ایرانی ویب سائٹ "امتداد" کو دیے گئے انٹرویو میں مزید بتایا کہا "ارکان پارلیمنٹ وزیر داخلہ کی بات سن کر حیران رہ گئے جنہوں نے مکمل طور پر ٹھنڈے اعصاب کے ساتھ یہ اعلان کیا"۔

اصلاح پسند ایرانی رکن پارلیمنٹ صادقی نے باور کرایا کہ "تشدد کے ذریعے احتجاج کو کچلنے کا عمل 48 گھنٹوں کے دوران پورا ہوا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ فائرنگ کا کیا جانا اور جانوں کا چلے جانا کوئی کامیابی نہیں ہے۔

صادقی کے نزدیک حکومت پر لازم تھا کہ وہ لوگوں کو (پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق) اچانک فیصلے کے خلاف اپنے احتجاج کے اظہار کی اجازت دیتی۔

صادقی نے زور دے کر کہا کہ انہوں نے وزیر داخلہ کو آگاہ کر دیا تھا کہ "حکومت نے اقتصادی اور سماجی معاملات کو سیکورٹی اقدامات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی"۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اندازے کے مطابق ایران میں حالیہ احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن میں اب تک 304 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ مظاہرین گذشتہ ماہ 15 سے 18 نومبر کے دوران سیکورٹی فورسز اور پاسداران انقلاب کی گولیوں کا نشانہ بنے۔

پیر کے روز جاری ایک بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام نے 15 نومبر کو ملک گیر احتجاج بھڑکنے کے بعد سے وحشیانہ کریک ڈاؤن کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان میں مظاہرین، صحافی، انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے کارکنان اور طلبہ شامل ہیں۔ گرفتاریوں کا مقصد ایران کی جانب سے جاری سنگین کریک ڈاؤن کے بارے میں اعلانیہ طور پر بات چیت کو روکنا ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران بھر میں کریک ڈاؤن کے دوران 1 ہزار سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 12 ہزار سے زیادہ کو گرفتار کیا گیا۔

ایران میں احتجاج کے دوران 10 روز تک انٹرنیٹ کی سروس منقطع رہنے کے بعد ابھی تک وائرل ہونے والے وڈیو کلپوں سے مظاہرین کے خلاف خوف ناک کریک ڈاؤن کی تصدیق ہوتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ایرانی حکام نے احتجاج کے دوران کم از کم 12 بچوں کو موت کی نیند سلا دیا جب کہ ہزاروں گرفتار شدگان بیرونی دنیا سے کٹ کر تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اقدامات کرے۔ تنظیم نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ ایک خصوصی اجلاس منعقد کرے اور ایران میں مظاہرین کے خلاف قتل، گرفتاریوں، جبری روپوشی اور تشدد کی غیر قانونی کارروائیوں کی تحقیقات کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں