جنوبی شام میں ایرانی نفوذ پر روک لگانے کے لیے روسی منصوبہ بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام کے جنوب میں واقع صوبے درعا میں ایک بار پھر سے امن و امان کی صورت حال مخدوش ہو گئی ہے۔ صوبے بھر میں قتل اور اغوا کی کارروائیوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ سال 2018 کے وسط میں مسلح شامی اپوزیشن گروپوں کے ساتھ طے پانے والے "تصفیے" کے نتیجے میں بشار الاسد کی شامی فورسز نے صوبے کے علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ یہ تصفیہ روس کے زیر سرپرستی عمل میں آیا۔

ماسکو اب ایک بار پھر درعا شہر اور اس کے نواحی دیہی علاقوں میں نئی عسکری شخصیات کے تقرر کے لیے کوشاں ہے۔ اپوزیشن ذرائع کے مطابق یہ اسی طرح کی شخصیات ہوں گی جنہوں نے ڈیڑھ سال قبل شامی فورسز کے ساتھ "مصالحت" کے عمل کی قیادت کی تھی۔

ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ ماسکو کا مقصد یہ ہے کہ اس طرح درعا میں عمومی صورت میں رائج ایران کے نفوذ پر روک لگائی جائے اور بعض مسلح عناصر سے چھٹکارہ حاصل کیا جائے جنہوں نے بشار حکومت کے ساتھ مصالحت کو مسترد کر دیا ہے۔

درعا اور اس کے نواحی دیہی علاقوں کے حوالے سے "مصالحت" کے بعد سے اپوزیشن کے زیادہ تر رہ نما ہلاک ہو چکے ہیں جنہوں نے مذکورہ "تصفیے" میں حصہ لیا تھا۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق ان افراد کی تعداد 27 سے زیادہ ہے اور یہ مختلف طریقوں سے پراسرار حالات میں موت کی نیند سلا دیے گئے۔

مسلح اپوزیشن گروپوں کے ساتھ "تصفیے" کے نتیجے میں بشار الاسد کی شامی فورسز اپنے انخلا کے کئی برس بعد درعا واپس لوٹنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اس موقع پر شامی فورسز کے ساتھ لبنانی ملیشیا "حزب الله" کے جنگجوؤں کے علاوہ روسی بھی تھے جنہوں نے اس "مصالحتی" عمل کی نگرانی کی۔

اپوزیشن کے باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مذکورہ مصالحت نے درعا شہر اور اس کے نواح میں دیہی علاقوں پر حزب اللہ ملیشیا کا کنٹرول مسلط کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور یہ ملیشیا السویداء اور القنیطرہ شہروں کی سرحدوں تک پہنچ گئی۔ ذرائع کے مطابق "درعا میں اس لبنانی ملیشیا کا بڑھتا نفوذ روس کے وفاداروں کی مطلق عدم موجودگی کا نتیجہ ہے"۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ روسیوں کو درعا صوبے میں حزب اللہ کے عناصر کے ساتھ موجود ایران نواز ملیشیاؤں کے ساتھ کافی اختلافات ہیں۔ روس اس وقت درعا میں اپوزیشن کی فورس کی تشکیل نو کی کوشش میں ہے تا کہ ان علاقوں میں ایرانی وجود کے ساتھ توازن پیدا کیا جائے۔ یہ کوشش التنف کے فوجی اڈے میں امریکی مشیروں کے تعاون سے کی جا رہی ہے۔ روس کی یہ کوشش علاقے میں شامی عوام کے وسیع پیمانے پر عدم اطمینان کا نتیجہ ہے جو درعا اور اس کے نواح میں دیہی علاقوں میں ایران کے غلبے پر نالاں ہیں۔ صوبے میں تہران کی ملیشیاؤں کی موجودگی کو مسترد کرتے ہوئے یہاں وقتا فوقتا اپوزیشن کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہے۔

ایرانی ملیشیاؤں نے درعا صوبے میں اردن اور اسرائیل کی سرحدوں کے نزدیک "چیک پوائنٹس" بنا رکھی ہیں تا کہ ان علاقوں میں مختلف عسکری تشکیلوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔ ساتھ ہی ماہانہ تنخواہوں کے عوض نوجوانوں کو بھرتی کر کے اپنی صفوں میں شامل کیا جائے۔

درعا شہر میں مقامی ذرائع کے مطابق ان نوجوانوں کی ماہانہ تنخواہ بعض مرتبہ 80 ڈالر سے زیادہ نہیں ہوتی۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہونے والی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ یہ نوجوان اپنے روز مرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان ملیشیاؤں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔ تاہم بعض نوجوان ایسے بھی ہیں جو شام اور اردن کے درمیان اور بعض مرتبہ عراق کے ساتھ اپنی ممنوعہ اور اسمگل شدہ مواد کی تجارت کی صورت حال سے باخبر رہنے کے واسطے ان ملیشیاؤں میں شامل ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں