عراق : عوام نے وزارت عظمی کے لیے نئی نامزدگی کو مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق میں العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے نے بتایا ہے کہ دارالحکومت بغداد کے علاوہ جنوبی صوبوں مثلا بصرہ وغیرہ میں منگل کی شب مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ مظاہرین نئی عراقی حکومت میں وزارت عظمی کے منصب کے لیے وزیر تعلیم قصی السہیل کی نامزدگی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

نمائندے کے مطابق جنوبی صوبوں سے آنے والے مظاہرین بدھ کی صبح بغداد کے التحریری اسکوائر پہنچنا شروع ہو گئے۔

منگل کی شام قصی السہیل کی نامزدگی کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی اس کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ سوشل میڈیا پر بھی سرگرم کارکنان نے #يسقط_قصي_السهيل کا ٹرینڈ چلایا۔ عراقی حلقوں نے وزارت عظمی کے لیے ایسے کسی بھی سیاست دان کے نام کو مسترد کر دیا ہے جو کسی وزارت کے منصب پر کام کر چکا ہو یا کام کر رہا ہو۔

اس سے قبل منگل کی شام مقامی میڈیا نے بتایا تھا کہ البناء سیاسی الائنس نے عراقی صدر برہم صالح کو سرکاری طور پر بھیجی گئی ایک تحریر میں وزارت عظمی کے لیے قصی السہیل کی نامزدگی کی درخواست کی تھی۔

واضح رہے کہ نئی حکومت کے سربراہ کی نامزدگی کے لیے عراقی صدر کو حاصل مہلت کی آئینی مدت کل جمعرات کے روز اختتام پذیر ہو رہی ہے۔

یاد رہے کہ عراق میں مظاہرین وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے مستعفی ہونے کے بعد بارہا یہ باور کرا چکے ہیں کہ وہ عبوری حکومت کے سربراہ کے لیے ایسی شخصیت کا مطالبہ کر رہے ہیں جو سیاسی جماعتوں سے دور ہو اور ماضی میں سیاسی یا وزارتی منصب پر فائز نہ رہی ہو۔

ادھر الصدری گروپ کے سربراہ مقتدی الصدر نے اپنے طور پر منگل کی شام قصی السہیل کے نام کو مسترد کرنے کا عندیہ دے دیا۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ "آزمائے ہوئے کو آزمایا نہیں جاتا"۔

چند روز قبل سیاسی جماعتوں کے درمیان جاری طویل مشاورت کے نتیجے میں ملک میں وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے لیے چار نام سامنے آئے تھے۔ ان میں سابق رکن پارلیمنٹ اور وزیر محمد شياع السودانی، شیعہ آزاد سیاسی شخصیت اور سابق وزیر عبدالحسين عبطان، انٹیلی جنس ادارے کے موجودہ سربراہ مصطفى الكاظمی اور بصرہ صوبے کے گورنر اسعد العیدانی کا نام شامل تھا۔ تاہم بعد ازاں یہ تمام نام خارج کر دیے گئے۔

عراق کا سیاسی منظرنامہ آئندہ حکومت کے سربراہ کے چُناؤ کے حوالے سے بحرانی صورت حال سے دوچار ہے۔ اس کا بنیادی سبب عوام کا بے حد دباؤ ہے جو ہر صورت ایسی شخصیت کا مطالبہ کر ہے ہیں جس کا گذشتہ 16 برس کے دوران ملک میں حکمراں حلقوں سے کوئی تعلق نہ ہو۔ عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی گذشتہ ماہ 29 نومبر کو مستعفی ہو گئے تھے۔ نئی حکومت تشکیل پانے تک اُن کی حکومت نگراں حکومت کے طور پر بدستور کام کرتی رہے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں