اسرائیل غربِ اردن میں 22 ہزار مکانات تعمیر کر رہا ہے:اقوام متحدہ

سلامتی کونسل میں دسمبر 2016ء میں منظور کردہ قرارداد پر عمل درآمد کے بارے میں خصوصی ایلچی کی رپورٹ میں انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اقوام متحدہ کے مشرقِ اوسط کے لیے خصوصی ایلچی نے کہاہے کہ اسرائیل دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے اور مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے بائیس ہزار مکانات کی تعمیر کررہا ہے۔اسرائیل نے ان مکانات کی تعمیر کے منصوبوں کی گذشتہ تین سال کے دوران میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اختیار کردہ اس مشہور قرارداد کے بعد منظوری دی ہے جس میں فلسطینیوں کی اراضی پراسرائیل کی تعمیرات کی مذمت کی گئی تھی۔

نیکولے میلادینوف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بدھ کی شب بتایا ہے کہ دسمبر 2016ء میں اس قرارداد کی منظوری کے بعد سے اسرائیل نے مزید قریباً آٹھ ہزار مکانوں کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیے ہیں۔اس قرارداد میں یہ کہا گیا تھا کہ فلسطینی علاقوں میں تعمیر کی جانے والی اسرائیل کی تمام یہودی بستیوں کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔

انھوں نے کہا:’’ یہ تعداد ان تمام (ممالک اور افراد) کے لیے گہری تشویش کا باعث ہونی چاہیے ، جو اسرائیل کے ساتھ ایک آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے بھی سلامتی کونسل میں غربِ اردن میں اسرائیل کی یہودی آبادکاروں کے لیے بستیوں کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی ہے اور اس میں کہا ہے کہ ’’ان کا کوئی قانونی اثر(جواز) نہیں ہے۔‘‘انھوں نے قراردیا ہے کہ ’’ان بستیوں کی تعمیر اور منظوری کا عمل فوری اور مکمل طور پر روکا جانا چاہیے۔‘‘

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ ’’ان یہودی بستیوں کی موجودگی اور توسیع فلسطینی آبادی میں غم وغصے اور ناامیدی کو ہوا دے رہی ہے اور اسرائیل اور فلسطین میں کشیدگی اور تناؤ کو نمایاں طور پر مہمیز دے رہی ہے۔‘‘

’’مزید برآں یہ (یہودی بستیاں اسرائیلی) قبضے کے خاتمے ، تنازع کے دو ریاستی حل اور ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو بھی منظم انداز میں معدوم کررہی ہیں۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا۔

انتونیو گوٹیریس نے ٹرمپ انتظامیہ کے 18 نومبر کے اعلان پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے جس میں اس نے کہا تھا:’’ٹرمپ انتظامیہ تمام جانب سے قانونی مباحث کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ غربِ اردن میں قائم اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون سے متصادم نہیں ہیں۔‘‘

امریکا نے اس طرح فلسطینی اراضی پر یہودی آبادکاروں کی بستیوں کے بارے میں گذشتہ چارعشروں سے اختیار کردہ مؤقف سے انحراف کیا تھا۔پہلے امریکا یہ کہتا رہا ہے کہ یہ یہودی بستیاں بین الاقوامی قانون سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔امریکا کی غربِ اردن میں یہودی بستیوں کے بارے میں یہ پالیسی 1978ء میں محکمہ خارجہ کی قانونی رائے پر مبنی تھی۔اس نے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے منافی قراردیا تھا۔

نیکولے میلادینوف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دسمبر 2016ء میں منظور کردہ قرارداد پر عمل درآمد کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کی ہے۔واضح رہے کہ امریکا سلامتی کونسل میں اسرائیل مخالف اس قرارداد پر رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہا تھا اور اس نے ماضی کی طرح اپنے اتحادی اسرائیل کے حق میں اس قرارداد کو ویٹو نہیں کیا تھا۔

تب سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ کا آخری دور چل رہا تھا اور وہ چند ہفتے کے بعد سبکدوش ہونے والے تھے۔اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر کیلی کرافٹ کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس وقت سلامتی کونسل میں موجود ہوتیں تو وہ اس قرارداد کو ویٹو کردیتیں۔امریکا کی موجودہ ٹرمپ انتظامیہ اس قرارداد کی مخالف رہی ہے اور کیلی کرافٹ سلامتی کونسل میں بڑھ چڑھ کر اسرائیل کی طرف داری کررہی ہیں۔

یادرہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس سمیت غربِ اردن اور غزہ کی پٹی کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔اس کے بعد ان فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں قائم کرنا شروع کردی تھیں۔اسرائیل اپنے تئیں اُن بستیوں کو قانونی قراردیتا ہے جن کی اس نے منظوری دی تھی اور انھیں غیر قانونی قرار دیتا ہے جنھیں یہودی آبادکاروں نے فلسطینی علاقوں میں ازخود ہی تعمیر کرلیا تھا لیکن فلسطینی اور عالمی برادری ان تمام یہودی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں