الدہناء بازار ... اونٹوں کی تزئین و آرائش کے لیے سعودی خواتین کی جدت طرازی کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اگر آپ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے 140 کلو میٹر کی دوری پر کنگ عبدالعزیز کیمل فیسٹول (اونٹوں کے میلے) کا رخ کریں تو فیسٹول کے مقام سے پہلے راستے کے دونوں جانب سفید خیموں میں موجود سعودی خواتین آپ کی توجہ حاصل کر لیں گی۔ یہ "الدہناء" کا بازار ہے جس کا نام اس وسیع صحرا کے نام پر رکھا گیا جہاں ہر سال اونٹوں کا یہ معروف میلہ سجایا جاتا ہے۔ مذکورہ خیموں میں بڑی عمر کی یہ سعودی خواتین اپنے ہاتھوں سے تیار کی گئی اشیاء فروخت کے لیے پیش کرتی ہیں جو اونٹوں کی سجاوٹ اور دیگر مقاصد کے واسطے استعمال ہوتی ہیں۔

انہی خواتین میں عمر کی چھٹی دہائی گزارنے والی خاتون "اُم سالم" بھی ہیں۔ ام سالم کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی برسوں سے اونٹوں کی تزئین و آرائش کی اشیاء کی تیاری اور فروخت کا پیشہ اپنا رکھا ہے۔ ان اشیاء میں "الشمائل"اور "الجلال" وغیرہ شامل ہیں۔ وہ اونٹوں سے متعلق شاہ عبدالعزیز میلے میں مسلسل دوسرے برس شرکت کر رہی ہیں جب کہ میلے کے انعقاد کا یہ مسلسل چوتھا سال ہے۔ اس کے علاوہ وہ الجنادریہ سمیت دیگر کئی قومی میلوں میں بھی شرکت کر چکی ہیں۔

اُم سالم اونٹوں کی سجاوٹ کے لیے سادہ نوعیت کی اشیاء تیار کرتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ قدرتی اور مصنوعی اون کے علاوہ رنگین کپڑوں ، رسیوں اور معدنی ٹکڑوں کا استعمال کرتی ہیں تا کہ عوام کے سامنے نمائش کے لیے پیش کیے جانے والے اونٹوں کو مزید خوب صورت بنایا جا سکے۔

ام سالم کے مطابق اونٹوں کا یہ میلہ مال کمانے اور اپنی دست کاری کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا ایک قیمتی موقع ہوتا ہے۔ میلے میں شرکت کے لیے مملکت کے اندرون کے علاوہ خلیجی ممالک سے لوگ اور بعض غیر ملکی سیاح بھی آتے ہیں۔ یہ لوگ بازار میں پیش کی گئی دست کاری کی اشیاء خریدتے ہیں تا کہ یہ ان کے لیے "قیمتی" یادگار کے طور پر شمار ہو۔

ام سالم نے واضح کیا کہ ان کی تیار کی گئی اشیاء کئی طرح کے استعمال میں آتی ہیں۔ ان میں "الجلال" کا استعمال اونٹوں کی پشت کو سجانے کے لیے ہوتا ہے جب کہ "الشمائل" کے ذریعے اونٹ کے بچے کو ہر وقت ماں کا دودھ پینے سے روکا جاتا ہے تا کہ مقررہ دورانیے میں رضاعت کا وقت منظم کیا جا سکے۔ اس طرح اونٹنی کا دودھ اس کے مالک اور اونٹنی کے بچے میں ضرورت کے مطابق تقسیم ہو جاتا ہے۔

ام سالم نے خیموں اور فروخت کی جگہاؤں کا انتظام کرنے میں کیمل کلب کے کردار کو سراہا۔ اس طرح ام سالم اور ان کی جیسی دیگر سعودی خواتین کو شاہ عبدالعزیز اونٹ میلے میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے کا موقع میسر آ جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں