سعودی وزارت صحت کے سگریٹ نوشی چھوڑنے کے پروگرام لوگوں کی توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب میں وزارت صحت کی جانب سے سگریٹ نوشی کے انسداد کے پروگراموں کے حوالے سے عوامی توجہ کا تناسب ایک ماہ کے دوران 700% تک بڑھ گیا ہے۔ یہ پیش رفت 15 نومبر کو مملکت میں سگریٹ کے نئے بحران یعنی "نارمل پیکنگ" کے آغاز کے بعد سامنے آئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے وزارت صحت کے انسداد سگریٹ نوشی کے پروگراموں کے نگرانِ عام ڈاکٹر علی الوداعی نے بتایا کہ سعودی عرب میں سگریٹ نوشی چھوڑنے میں معاونت کے لیے مخصوص 1039 کلینک موجود ہیں۔ یہاں تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے ایسے مرد اور خواتین نے بڑی تعداد میں رابطہ کیا جو سگریٹ نوشی چھوڑنے کے خواہش مند ہیں۔ یہ لوگ کلینک کی جانب سے پیش کی جانے والی مفت علاج کی سہولت سے مستفید ہونا چاہتے ہیں۔

مملکت کے شہروں میں سگریٹ نوشی چھوڑنے کے پروگراموں کے حوالے سے عوامی دل چسپی کا تناسب مختلف رہا۔ ان میں نجران 709% کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا۔ اس کے بعد حفر الباطن میں یہ تناسب 267% ، حائل میں 176% ، قصیم میں 175% ، ریاض میں 110% اور جدہ میں 75% رہا۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کی مجموعی آبادی میں سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کا تناسب 12.3% تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے مقابل گذشتہ برس 2018 میں سگریٹ نوشی چھوڑنے میں معاون کلینکس سے رجوع کرنے اور مفت علاج اور دواؤں سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی تعداد 2.03 لاکھ سے زیادہ رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں