طرابلس پرقبضے کے لیے گھمسان کی لڑائی، قومی وفاق کے گرد گھیرا تنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس قبضے کے لیے قومی وفاق حکومت اور لیبی نیشنل آرمی کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ دوسری طرف لیبی فوج نے قومی وفاق حکومت کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا ہے۔ نیشنل آرمی نے جامع الاخضر کے علاقے پر اپنا کنٹرول مضبوط کرلیا ہے۔ دوسری طرف طرابلس کے اطراف میں کئی مقامات پرمتحارب فریقین کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

سوشل میڈٰیا پروائرل ہونے والی ایک فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے خلاف بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ الاخضر کے مقام پر لیبی فوج کے کنٹرول کےبعد پیش قدمی جاری ہے۔ قومی فوج کا کہنا ہے قومی وفاق حکومت کی وفادار ملیشیا نے فوجی گاڑیاں چھوڑ کر فرار ہوگئی، فوج نے اسلحہ اور گاڑیوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق خلیفہ حفتر کی قیادت میں نیشنل آرمی تیزی کے ساتھ طرابلس کے تمام محاذوں پرآگے بڑھ رہی ہے۔

طرابلس میں العربیہ کے نامہ نگار کےمطابق لیبی فوج کی طرف سے طرابلس ہوائی اڈے کے راستے پر پیش قدمی کے بعد الاصفاح کے علاقے سے قومی وفاق حکومت کے عناصر فرار ہوگئے ہیں۔

لیبیا کے بعض آن لائن پورٹل پر آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ طرابلس کی کئی کالونیوں میں فوج داخل ہوگئی ہے۔

فوج کے ایک سینیر عہدیدار بریگیڈیئر خالد المحجوب کا کہنا ہے کہ لیبیا میں لڑائی نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی وفاق حکومت اور اس کی وفادار ملیشیائوں کے خلاف دارالحکومت طرابلس اور کئی دوسرے شہروں میں فیصلہ کن کارروائی جاری ہے۔ منگل کے روز فوج ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

'سپوٹنیک' نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے المحجوب کا کہنا تھا کہ نیشنل آرمی طرابلس پرقابض قومی وفاق ملیشیا کو کچلنے تک آپریشن جاری رکھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ طرابلس میں قومی وفاق حکومت کے حامیوں کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا ہے۔ قومی وفاق ملیشیا کے عناصر لڑائی کے دوران بھاری جانی اور مالی نقصان کا سامنا کررہے ہیں۔ ہواس باختہ ملیشیائیں اور ان کے کارندے شہر سے فرار کی کوشش میں ہیں مگر نیشنل آرمی نے طرابلس کا تمام اطراف سے محاصرہ کرلیا ہے۔

قبل ازیں منگل کی شام لیبی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے کہا تھا کہ فوج نے طرابلس میں اہم محاذوں پر پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج میں کوئی غیرملکی سپاہی نہیں لڑ رہا ہے جبکہ قومی وفاق کی صفوں میں ترک فوج بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں