.

کوالالمپور اجلاس میں اخوان اور حوثیوں کو مجتمع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور انڈونیشیا جیسے دو بڑے ممالک کے بائیکاٹ کے باوجود ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ہونے والی متنازع کانفرنس میں عرب ممالک میں کالعدم قرار دی گئی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون اور یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ کوالالمپور اجلاس کو پچاس سال سے عالم اسلام کی نمائندگی کرنے والی اسلامی تعاون تنظیم کے متبادل فورم کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔

اخوان المسلمون کی طرف سے اس اجلاس کو'تاریخی' قرار دیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کوالالمپور میں ہونے والا اجلاس اخوان المسلمون کے لیے اس لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں وہ ممالک شرکت کر رہے ہیں جنہوں نے اخوان کے مفرور لیڈروں کو پناہ دے رکھی ہے۔ اخوان المسلمون کی طرف سے عربی اور انگریزی زبان میں جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 'نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں فرزندان امت میں اتحاد اور تعاون اسلام کا اصل الاصول ہے۔ تعاون زندگی کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔ مسلم امہ کے درمیان وحدت اور یکجہتی تزویراتی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اخوان المسلمون کوالالمپور اجلاس کے انعقاد کا خیر مقدم کرتی ہے'۔

اخوان المسلمون کا کہنا ہے کہ وہ ملائیشیا میں وحدت اُمت کے لیے ہونے والی ہر سرگرمی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی اوراس پرگہری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جس میں ترکی، قطر اور ایران بھی شرکت کررہے ہیں۔ قطراور ترکی کے اخوان کے ساتھ براہ راست تعلقات ہیں جب کہ ایران بھی اخوان کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتا ہے۔

حوثی اخوانی اکٹھ

اخوان المسلمون کے بیانیے کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے یمن کے حوثی گروپ نے بھی کوالالمپور اجلاس کا خیر مقدم کیا۔ حوثی ملیشیا کی انقلابی کونسل کے رکن محمد علی الحوثی نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں عالم اسلام کو درپیش مسائل پر مسلمان قیادت کا ایک جگہ جمع ہونا غنیمت ہے۔

حوثی لیڈرنے ایسے بات کی گویا یمنی قوم کے خلاف ان کے جرائم سے دُنیا آگاہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ' ہم ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کو اس وقت اسلامی سربراہ اجلاس منعقد کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ لمحہ موجود میں عالم اسلام کے موقف کو بیان کرنا اور مسلم امہ کے مسائل پر آواز بلند کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

او آئی سی کا رد عمل

اسلامی تعاون تنظیم'او آئی سی' نے ملائیشیا کی میزبانی میں ہونےوالی اسلامی سربراہ کانفرنس کو اجماع امت سے باہر نکلنے کی کوشش کے مترادف قرار دیا ہے۔ 'او آئی سی' کے سیکرٹری جنرل یوسف العثیمین نے کہا ہے کہ تنظیم کے فورم سے باہر اس کے متوازی کوئی بھی تنظیم یا فورم قائم کرنے سے مسلم مہ اور عالم اسلام کم زور ہوگا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک بیان میں یوسف العثیمین نے کہا کہ کوالالمپور میں اسلامک فورم کا انعقاد اس میں شرکت عالم اسلام کے قافلے سے باہر نکل کرشور وغوغا کے مترادف ہے۔

خیال رہے کہ ملائیشیا کی میزبانی میں اسلامی کانفرنس جاری ہے جس میں ترکی، ایران، انڈونیشیا، الجزائر اور قطر شرکت کررہے ہیں۔ یوسف العثیمین کا کہنا تھا کہ اسلامی تعاون تنظیم پوری دنیا کے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے اور اس کا میکانزم اس کی حدود کے اندرکسی بھی اجتماع اوراجلاس کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ عالم اسلام کی سطح پرکوئی بھی ایکشن او آئی سی کے فورم سے کیا جانا چاہیے۔

دوسری طرف ملائیشیا کےوزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ ان کا ملک کوالالمپور اجلاس کے ذریعے او آئی سی کے متبادل کسی نئے فورم کے قیام پرکام نہیں کررہا ہے۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعریز سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ او آئی سی کے کردار اور اس کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہیں۔