شام کے شمال مغربی شہر سراقب پر فضائی حملے میں سات افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں واقع شہرسراقب پر فضائی حملے میں سات افراد ہلاک اور بیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

شامی فوج اور اس کے اتحادی روس کے لڑاکا طیاروں نے جنگ بندی کے باوجود باغیوں کے زیر قبضہ ادلب میں واقع شہروں اور قصبوں پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ ہفتے کی صبح سراقب پر اس نئے حملے سے قبل شامی فوج نے ادلب کے جنوب میں واقع دو اور دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔

ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت شامی باغیوں کے زیر قبضہ سراقب اور معرۃ النعمان شہر دارالحکومت دمشق کو ملک کے سب سے بڑے شہر حلب سے ملانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہیں۔

شامی فوج اس مرکزی تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کے لیے کوشاں ہے۔شامی فوجیوں نے حالیہ دنوں نے اس سے شمال میں واقع شہر معرۃ النعمان کی جانب بھی پیش قدمی کی ہے۔

شامی رضاکاروں پر مشتمل شہری دفاع کی تنظیم المعروف سفید ہیلمٹ کا کہنا ہے کہ حالیہ فوجی کارروائی کے بعد سے سراقب اور معرۃ النعمان کو بیشتر مکین خالی کرکے جا چکے ہیں اور اب ان میں بہت تھوڑی آبادی رہ گئی ہے۔

چند ہفتے قبل شامی اور روسی فوج کے ادلب پر نئے فضائی حملوں اور زمینی کارروائی سے قبل اقوام متحدہ نے یہ اطلاع تھی کہ ادلب کے قریباً ساٹھ ہزار مکین بے گھر ہوگئے ہیں۔وہ اپنا گھربار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب چلے گئے ہیں یا عارضی خیموں میں مقیم ہوگئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر شامی فوج نے اپنی کارروائی جاری رکھی تو ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع ادلب کے علاقے میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ادلب میں اس وقت قریباً تیس لاکھ افراد رہ رہے ہیں۔اس صوبے پر اس وقت ماضی میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم کی قیادت میں مختلف باغی گروپوں کا کنٹرول ہے اور یہاں شام کے دوسرے صوبوں سے بھی گذشتہ برسوں کے دوران میں اہلِ سُنت کی آبادی کو نقل مکانی کے بعد لابسایا گیا ہے۔

شامی اور روسی فوج نے اپریل میں بھی ادلب میں باغی گروپوں کے خلاف ایک تباہ کن جنگی کارروائی تھی جس کے نتیجے میں ایک ہزار افراد مارے گئے تھے اور کم سے کم چار لاکھ بے گھر ہوگئے تھے۔

بشارالاسد کے پشتیبان روس نے 31 اگست کو ادلب میں باغیوں اور اسد رجیم کے درمیان ثالثی کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن اس نے خود اور اس کے اتحادی شامی صدر بشارالاسد کی فوج نے ادلب میں باغیوں کے خلاف کارروائی کے نام پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تاہم روس کی ثالثی میں ادلب میں جنگ بندی کے لیے طے پانے والا یہ سمجھوتا اب ختم ہوچکا ہے اور شامی حکومت کی فوج نے باغیوں کے زیر قبضہ اس آخری صوبہ کو اپنی عمل داری میں لانے کے لیے فضائی اور زمینی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں