عراق کے بحران کا واحد حل قبل از وقت انتخابات ہیں : علامہ سیستانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق میں شیعہ مذہبی مرجع علی السیستانی کا کہنا ہے کہ عراق میں قبل از وقت انتخابات ملک کو حالیہ بحران سے نکالنے کا واحد حل ہے۔ دارالحکومت بغداد اور جنوب کے متعدد شہروں میں ڈھائی ماہ سے عوامی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

سیستانی کا یہ موقف کربلا شہر میں اُن کے نمائندے عبدالمہدی کربلائی کی جانب سے دیے گئے نماز جمعہ کے خطبے میں سامنے آیا۔ اُن کے مطابق نئی حکومت کو غیر متنازع ہونا چاہیے۔

شیعہ مذہبی مرجع کے نمائندے نے چند روز قبل باور کرایا تھا کہ ملک کا استحکام اس بات کے مرہون منت ہے کہ ہتھیاروں کو قانونی اداروں کے ہاتھوں تک محدود کیا جائے۔ اس موقع پر حالیہ عرصے میں مظاہرین کی ہلاکتوں اور اغوا کی کارروائیوں کی مذمت کی گئی اور ریاست پر زور دیا گیا کہ وہ ہتھیاروں کے استعمال کو کنٹرول کرے۔

سیستانی نے گذشتہ جمعے کو کربلا میں اپنے نمائندے کی زبانی مسلح افواج پر زور دیا تھا کہ وہ پیشہ ورانہ روش پر قائم رہے اور غیر ملکی نفوذ سے دور رہتے ہوئے ریاست کی وفادار رہے۔

یاد رہے کہ یکم اکتوبر سے عراقی دارالحکومت اور جنوبی صوبوں میں بھرپور مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں۔ ان میں شریک عوام ابتدا میں بدعنوانی اور بے روزگاری کے انسداد اور کوٹہ سسٹم کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بعد ازاں یہ مطالبات ملک میں سیاسی اشرافیہ کے مکمل طور پر رخصت ہونے اور قبل از وقت انتخابات کے اجرا میں تبدیل ہو گئے۔

حالیہ مظاہروں میں تشدد کا رجحان اپنے عروج پر نظر آیا جہاں 400 سے زیادہ مظاہرین کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ اسی طرح درجنوں صحافیوں اور سماجی کارکنان کو قتل، اغوا اور گرفتاری کی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

مقبول خبریں اہم خبریں