.

حسن روحانی کا جوہری معاہدے سے دست بردار ہونے کا عندیہ

'امریکا غلطی کی اصلاح کرے تو مذاکرات کے لیے تیار ہیں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اگر عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے میں ایران کے مفادات حاصل نہ ہوئے تو ایران اس معاہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

اپنے دورہ جاپان کے دوران جاپانی وزیراعظم شنزو آبے سے ٹوکیو میں ملاقات میں حسن روحانی کا کہنا تھا کہ کہ ایرانی مشکل کے ساتھ مذاکرات میں داخل ہو رہے ہیں لیکن اگر کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ایران اس کی پابندی کرے گا۔ اگر ایران کو اس کےمفادات نہیں مل پاتے تو تہران اس معاہدے سے الگ ہوسکتا ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ ایران نے جوہری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کردی ہیں۔ معاہدے سے امریکا کی دست برداری کے بعد بھی ایران صبر کا مظاہرہ کررہا ہے۔

روحانی نے متنبہ کیا کہ اگر جوہری معاہدے کے دائرہ کار میں ایران کے مفادات پورے نہیں ہوئے تو یہ فطری بات ہے کہ ہم اسے برقرارنہیں رکھ سکیں گے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ہمارا صبر قائم نہیں رہے گا ، کیونکہ معاہدے پر پابندی کا کوئی فائدہ نہ ہوا تو ہمارا اگلا فیصلہ ان ذمہ داریوں کو ختم کرنے کا ہوسکتا ہے۔

درایں اثنا یورپی طاقتوں نے ایران کو معاہدے سے دستبرداری کے خلاف متنبہ کیا ہے۔ جرمنی ، برطانیہ اور فرانس نے زور دے کر کہا ہے کہ اگر تہران اپنی جوہری ذمہ داریوں کو ختم کرتا ہے تو اس کےخلاف بین الاقوامی پابندیاں بحالی کی جا سکتی ہیں۔

جاپان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےایرانی صدر نے کہا کہ ہمیں امریکیوں کے ساتھ اپنے معاملات میں بات چیت میں کوئی حرج نہیں مگر پہلے امریکا کو ڈیڑھ سال قبل کی گئی غلط کی اصلاح کرنا ہوگی اور اسے ٹریک پرآنا ہوگا۔

ایران اور امریکا کے مابین ثالثی کی جاپان کی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے روحانی نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

روحانی نے جاپانی وزیراعظم شنزو آبے سے ملاقات کے بعد کہا کہ ہم کسی بھی ایسے مذاکرات یا کسی ایسے معاہدے کو مسترد نہیں کرتے جو ہمارے قومی مفاد میں ہو۔

لیکن ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے بار بار کہا ہے کہ کسی کو بھی امریکا کے ساتھ بات چیت نہیں کرنی چاہیئے۔