.

تہران میں حوثی سفیر کی ایرانی وزیر دفاع سے ملاقات ، عسکری تعاون مضبوط بنانے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا کے زیر کنٹرول میڈیا کی جانب سے اتوار کے روز نشر کی گئی تصاویر میں تہران میں ملیشیا کے نمائندے ابراہیم الدیلمی کو ایرانی وزیر دفاع امیر حاتمی کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ چند ہفتے قبل تہران نے الدیلمی کو ایران میں یمن کے سفیر کی حیثیت سے تسلیم کر لیا تھا۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق حوثی میڈیا نے بتایا کہ الدیلمی اور ایرانی وزیر کے درمیان بات چیت میں حوثی ملیشیا اور ایرانی فوج کے بیچ عسکری شعبوں میں مشترکہ تعاون مضبوط بنانے پر غور ہوا۔

اسی طرح فریقین کے درمیان تعلق کو مضبوط اور قریب تر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

یاد رہے کہ متعدد مغربی رپورٹوں میں یمن میں ایران کے عسکری وجود پر روشنی ڈالی جا چکی ہے۔ اس حوالے سے ایرانی پاسداران انقلاب کے رہ نما عبدالرضا شہلائی کے زیر قیادت سرگرمیوں کا چرچا ہے۔ امریکا نے 5 دسمبر کو اعلان کیا تھا کہ یمن میں شہلائی کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کو 1.5 کروڑ ڈالر کی انعامی رقم دی جائے گی۔

اس سے قبل ایران کے امور کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی برائن ہک یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ان کے ملک نے ایک ایرانی بحری جہاز کا پتہ چلایا جو بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کی کھیپ لے کر یمن جا رہا تھا۔ دو ہفتے قبل واشنگٹن میں وزارت خارجہ کے صدر دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں برائن کا کہنا تھا کہ " بحیرہ عرب میں ایرانی بحری جہاز سے ضبط کی جانے والی کھیپ انتہائی جدید ترین ہے"۔

شہلائی پر یمنی ملیشیا کو اسلحہ اور جنگجوؤں کی فراہمی کے ساتھ سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر پر قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کا بھی الزام ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے کئی سینئر عہدے داران فخر کے ساتھ حوثی ملیشیا کی سپورٹ کا اظہار کر چکے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے نائب سربراہ علی فدوی نے ایک سابقہ بیان میں اقرار کیا تھا کہ ایران یمن میں حوثیوں کو ہر ممکن طریقے سے سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔