.

مکہ معظمہ میں جدید ترین سہولیات سے آراستہ بے نظیر تعمیراتی منصوبہ

شاہ عبدالعزیز روڈ پراجیکٹ کو ویژن 2030ء کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ معظمہ کے تقدس، اس کی آبادی میں تیزی کے ساتھ اضافے اور یہاں پر زائرین کی بڑھتی تعداد کے پیش نظرحکومت کو بنیادی ڈھانچے اور تعمیراتی منصوبوں میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ معظمہ کا بالعموم پورا شہر بالخصوص مغربی حصہ ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں کا نیا نمونہ پیش کر رہا ہے جہاں غیرمعمولی ترقیاتی منصوبے زیرتکمیل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حرم مکی شریف کے اطراف میں گذشتہ ایک دھائی سے تعمیراتی ڈھانچے میں مسلسل توسیع ہو رہی ہے۔ زائرین کی سال بھر روزانہ کی بنیاد پرآمد روفت کی وجہ سے شہر میں ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں میں اضافہ ضروری ہوگیا تھا۔ ان متعدد اور متنوع تعمیراتی منصوبوں کے نتیجے میں نہ صرف مکہ معظمہ کے باشندوں بلکہ زائرین مقامات مقدسہ کو بھی نئی اور بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملی ہے۔ مقدس دارالحکومت کا مغربی حصہ ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں کا عمدہ نمونہ پیش کررہا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی 'ایس پی اے' کے مطابق شاہ عبدالعزیز روڈ پروجیکٹ شہر میں ایک نیا تعمیراتی پلان ہے جسے ویژن 2030ء کے تقاضوں کے مطابق بنایا جا رہا ہے۔

شہر میں تعمیراتی منصوبوں کی بھرمار کے ساتھ ان منصوبوں کے ماحولیات پرپڑنے والے منفی اثرات کے ازالے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صرف عمارتیں تعمیر نہیں کی جا رہی ہیں انہیں بنیادی شہری سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ مواصلاتی نیٹ ورک، بنیادی ڈھانچے سے منسلک تمام ضروریات بجلی سیوریج اور پارکنگ پر غیرمسبوق کام جاری ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا غیر مسبوق اور جامع تعمیراتی پلان ہے۔

ام القریٰ کنسٹرکشن کمپنی کے چیف ایگزیکٹو یاسر ابو عتیق نے ایک بیان میں کہا کہ مکہ معظمہ کے مغربی حصے میں جاری تعمیراتی منصوبےکا ہدف اہالیان مکہ اور زائرین کرام کو معیاری سہولیاتِ زندگی فراہم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ شہر میں تعمیرو ترقی اور تمام بنیادی سہولیات کے اعتبار سے مثالی ہوگا جسے ویژن 2030ء کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے تاکہ مکہ معظمہ کو دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں شامل کرکے اس کی عالمی اہمیت اجاگر کیا جائے۔

انہوں نے بتایاکہ اس تعمیراتی منصوبے کی لمبائی تین ہزار 650 مربع میٹر جسے مسجد حرام تک توسیع دی جائے گی۔ اس کے علاوہ گرین پارکس ، ثقافتی ، سماجی اور تجارتی مراکز ،تین چار اور پانچ ستارہ ہوٹل اور رہائشی فلیٹس بھی اس کا حصہ ہیں۔

منصوبے کی تکمیل کے بعد وہاں پر 33 ہزار 300 گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش پیدا ہوگی۔ جب کہ حرم مکی تک رسائی کے لیے 11 مختلف میٹرو اسٹیشن قائم کیے جائیں گے۔

خیال رہےکہ مجموعی طور پرشاہ عبدالعزیز روڈ پروجیکٹ مجموعی طور پر ایک اعشاریہ 15 مربع میٹر پرمشتمل ہے جس میں تعمیراتی ڈھانچے کے لیے 6 اعشاریہ تین چار ملین مربع میٹر جگہ رکھی گئی ہے۔ اس میں تین اعشاریہ آٹھ ملین مربع میٹر ہوٹلوں دو اعشاریہ ایک ملین مربع میٹر رہائشی فلیٹس، تین لاکھ 17 ہزار 87 مربع میٹر تجارتی اور 27 ہزار 29 مربع میٹر ڈسپنریوں کے لیے رکھی گئی ہے۔