یورپی یونین نے عراق میں تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں یورپی یونین کے مشن نے عراقی وزارت داخلہ سے مظاہرین کے خلاف تشدد کا استعمال روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی یونین مشن نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر بتایا کہ ’’یورپی یونین میں شامل رکن ممالک کے نمائندوں نے عراقی صدر مقام بغداد میں عراقی وزیر داخلہ یاسین الیاسری کے ساتھ ہونے والے ایک اجلاس میں مطالبہ کیا ’’انسانی حقوق کے پرامن کارکنوں کے قتل، اغواء اور جبری طور پر غائب کیے جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات روکنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔‘‘

عراق کے طول وعرض میں وزارت عظمیٰ کے امیدواروں کی نامزدگی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جن میں شریک شہری ان نامزدگیوں کو مسترد کر رہے ہیں۔ یہ مظاہرے وزیر تعلیم قصی السھیل کے وزیر اعظم نامزدگی کا اعلان سامنے آنے کے بعد سے جاری ہیں۔

عراق میں انسانی حقوق کمیشن کے رکن علی البیاتی نے ’العربیہ‘ اور ’الحدث‘ نیوز چینلز کو بتایا کہ ملک میں مظاہروں کے آغاز سے اب تک 77 سرگرم سیاسی ورکرز اغواء کیے جا چکے ہیں۔ کمیشن کے مطابق ان میں اب تک صرف 12 رضاکاروں کو رہا کیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ مظاہروں کے آغاز سے اب تک 29 افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان میں 13 مظاہرین بغداد میں قتل ہوئے جبکہ تین افراد پر قاتلانہ حملے ناکام ہو گئے۔

ادھر بغداد کے تحریر اسکوائر میں پارلیمنٹ کو آگ لگانے کے ایک علامتی واقعے میں ایک کرسی کو نذر آتش کیا جس لفظ ’’پارلیمان‘‘ تحریر تھا۔ یہ اقدام پارلیمنٹ کی جانب سے انتخابی قانون کی منظوری میں لیت ولعل سے کام لینے پر بطور احتجاج کیا گیا۔

مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر پارلیمنٹ نے ان کے مطالبات تسلیم کرنے میں اسی طرح تاخیر سے کام لیا تو ملک میں ہونے والے مظاہروں میں مزید شدت لائی جائے گی۔

عراقی کا سیاسی بحران پارلیمنٹ میں نئے انتخابی قانون سے متعلق اجلاس اور وزیر اعظم کی نامزدگی میں تاخیر کی شکل میں نمایاں ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں تشدد کی فضا لوٹنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں کیونکہ تہران کی جانب سے ایسے وزیر تعلیم قصی السھیل کی بطور وزیر اعظم نامزدگی کے مطالبات میں شدت آتی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں