.

خاشقجی کیس میں عدالتی فیصلہ انصاف کے نفاذ میں اہم قدم ہے : خلیج تعاون کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے جرم کے سلسلے میں ریاض کی عدالت کی جانب سے جاری فیصلے کو "انصاف پر عمل درامد کے حوالے سے ایک اہم قدم" قرار دیا ہے۔

بدھ کے روز جاری بیان میں خلیج تعاون کونسل کے سکریٹری جنرل عبداللطيف الزيانی نے کہا کہ خاشقجی قتل کیس میں جاری فیصلہ سعودی عدلیہ کی آزادی اور شفافیت کا ثبوت ہے۔ اسی طرح مذکورہ جرم کے مرتکب افراد کے خلاف عدالتی کارروائی سے متعلق سعودی حکومت کا وعدہ بھی سچ ثابت ہو گیا۔

الزیانی نے واضح کیا کہ "ہم خاشقجی قتل کیس کو سیاسی رنگ دینے اور سعودی عرب کے معاملات میں مداخلت کرنے کی سخت مذمت کرتے ہیں"۔

سعودی عرب میں استغاثہ نے پیر کے روز اعلان میں بتایا تھا کہ عدالت نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے کیس میں 5 ملزمان کو بطور قصاص سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

سعودی استغاثہ کے ترجمان شلعان الشلعان نے ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ جس کسی کو بھی اس معاملے میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف عدالتی کارروائی پوری کی گئی ہے عدالت نے خاشقجی کیس میں 9 سماعتوں انعقاد کیا اور دسویں سماعت میں فیصلہ جاری کیا۔

الشلعان کے مطابق تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ قصور وار ٹھہرائے گئے افراد اور خاشقجی کے درمیان کوئی عداوت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ ان افراد کا قتل کے اقدام کا کوئی پیشگی ارادہ بھی نہیں تھا۔