.

غزہ میں اسرائیل مخالف مظاہرے تین ماہ کے لیے معطل، منتظم کمیٹی کا اچانک اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینیوں کی احتجاجی تحریک کے منتظمین نے غزہ کی پٹی اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر ہفتہ وار مظاہرے تین ماہ کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ہزاروں فلسطینی مظاہرین گذشتہ پونے دو سال سے اسرائیل کی غزہ کی پٹی کی ناکا بندی، فلسطینی مہاجرین کے حق واپسی اور فلسطینیوں پر مظالم کے خلاف یہ مظاہرے کررہے ہیں۔

’’حق واپیسی کے لیے تحریک‘‘ کی منتظم کمیٹی کے ایک رکن طلال ابو ظریفہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعہ کو اسرائیل کے خلاف رواں سال کا آخری مظاہرہ کیا جائے گا اور اس کے بعد 30 مارچ 2020ء تک احتجاجی مظاہرے معطل رہیں گے۔

فلسطینیوں نے ہفتہ وار اسرائیل مخالف مظاہروں کی اس منفرد احتجاجی تحریک کا مارچ 2018ء میں آغاز کیا تھا۔ وہ غزہ کی پٹی کے محاصرے کے خاتمے اور صہیونی ریاست کے قیام کے وقت بے گھر کیے گئے فلسطینیوں کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

طلال ابو ظریفہ نے بتایا ہے کہ مارچ میں بحالی کے بعد مظاہرے ہفت وار کے بجائے ماہانہ کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔انھوں نے مظاہروں کو معطل کرنے کے فیصلے کی کوئی وجہ تو بیان نہیں کی ہے لیکن حالیہ مہینوں کے دوران میں اسرائیل مخالف مظاہروں کے شرکاء کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

اسرائیل فلسطینیوں کے حق واپسی کی مخالفت کررہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اگر فلسطینیوں کو ان کے آبائی گھروں کو واپسی کا حق دیا جاتا ہے تو اس کا مطلب اسرائیل کی صہیونی ریاست کی حیثیت کا خاتمہ ہوگا۔اسرائیلی حکام غزہ کی حکمراں فلسطینی تنظیم پر ان مظاہروں کو منظم کرنے کا الزام عاید کرتے رہے ہیں۔

لیکن حماس گذشتہ سال کے دوران میں اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے طے شدہ سمجھوتے پر عمل پیرا ہے جبکہ دوسرے مزاحمتی گروپ غزہ کی پٹی سے اسرائیل کی جانب گاہے گاہے راکٹ داغتے رہتے ہیں اور اسرائیل نے ان راکٹ حملوں کے جواب میں غزہ شہر اور دوسرے علاقوں کو کئی مرتبہ تباہ کن بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔

جنگ بندی کے سمجھوتے کے تحت اسرائیل نےغزہ کی پٹی کی ناکام بندی میں نرمی کی ہے اور خلیجی ریاست قطر کو غزہ میں ہر ماہ کروڑوں ڈالر مالیت کا ایندھن اور نقدی منتقل کرنے کی اجازت دی ہے۔

واضح رہے کہ اس احتجاجی تحریک کے آغاز میں ہزاروں فلسطینی ان مظاہروں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔وہ اسرائیلی فوجیوں کے کارروائیوں کے جواب میں ان کی جانب پتھراؤ کرتے تھے۔اس پراسرائیلی فوجی براہ راست گولیاں چلاتے یا توپ خانے سے گولہ باری کرتے رہے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ان مظاہرین کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں 348 فلسطینی شہید اور78 سو زخمی ہوگئے تھے۔یادرہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں 2008ء کے بعد سے تین جنگیں لڑی جاچکی ہیں۔