ایران خطے میں اشتعال انگیزی پھیلا سکتا ہے: امریکی بحریہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی بحریہ کے قائم مقام وزیر تھامس موڈلے کا کہنا ہے کہ نسبتا پرسکون صورت حال کے باوجود ایران مستقبل میں خطے میں آبنائے ہرمز اور دیگر جگہاؤں پر "اشتعال انگیز کارروائیاں" کر سکتا ہے۔

جمعے کی شام برطانوی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا کہ "ایسا کوئی اشارہ نہیں مل رہا جس سے محسوس ہو کہ ایرانی قیادت کے رجحان میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے ،،، یا کوئی ایسی بات کا پتہ چلے کہ وہ اپنی کارستانیوں کا سلسلہ روک دیں گے ،،، ما سوا اس صورت مں کہ وہاں کا نظام تبدیل ہو جائے"۔

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) کے ایک اعلی عہدے دار نے دسمبر کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ ایران کی جانب سے عنقریب کسی جارحیت کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ وزارت دفاع نے ایران کو لگام دینے کے لیے تقریبا 14 ہزار اضافی فوجیوں کو خطے میں بھیجا تھا۔

امریکی قائم مقام وزارت بحریہ کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین، ایران اور روس کی جانب سے بحر ہند اور خلیج عُمان میں مشترکہ بحری مشقوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے اطراف سمندر بین الاقوامی طور پر کشیدگی اور تناؤ کا مرکز بن چکا ہے۔

اس کشیدگی میں رواں سال موسم گرما میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب امارات کے ساحل کے مقابل حملے سمیت تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا اور سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملہ کیا گیا۔ واشنگٹن نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ ان حملوں کا ذمے دار تہران ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں