.

امریکا کےعراق اورشام میں ایران نوازملیشیا کے ٹھکانوں پر’دفاعی حملے‘،متعدد جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی فوج نے شام اور عراق میں ایران کی اتحادی ملیشیا کتائب حزب اللہ کے ٹھکانوں پر’’ دفاعی حملے‘‘ کیے ہیں جن کے نتیجے میں متعدد جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

امریکی فوج نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ عراق اور شام میں کتائب حزب اللہ کے پانچ ٹھکانوں ، اسلحہ ڈپوؤں اور کمان اور کنٹرول مراکز کو ان حملوں میں ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا گیا ہے۔

عراقی فوج اور اس ایران نواز ملیشیا کے ذرائع کے مطابق عراق کے مغرب میں واقع ایک اڈے پر فضائی حملے میں متعدد جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔ان ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فضائی حملہ بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے ذریعے کیا گیا ہے اور اس میں ایران کی اتحادی ملیشیا کتائب حزب اللہ کو ہدف بنایا گیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں ایران نواز شیعہ ملیشیا گروپ کے تین ٹھکانوں اور شام میں دو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ان میں اس کے کمان اور کنٹرول مراکز بھی شامل ہیں۔ انھیں یہ گروپ امریکا اور اس کی اتحادی فورسز پر حملوں کے لیے استعمال کررہا تھا۔

امریکا نے دو روز پہلے عراق کے شمالی شہر کرکوک کے نزدیک عراقی فوج کے ایک اڈے پر راکٹ حملے میں کتائب حزب اللہ پرملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔اس حملے میں امریکا کا ایک سویلین کنٹریکٹر ہلاک ہوگیا تھا اور چار امریکی اور دوعراقی فوجی زخمی ہوگئے تھے۔

پینٹاگان کے ترجمان اعلیٰ جوناتھن ہوفمین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عراق میں امریکا کی اتحادی فورسز کے اڈوں پر کتائب حزب اللہ کے متعدد حملوں کے ردعمل میں امریکی فورسز نے اب یہ دفاعی حملے کیے ہیں اور ان میں کتائب حزب اللہ کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا ہے،اس سے اس ملیشیا گروپ کی مستقبل میں اتحادی فورسز کو اپنے حملوں میں نشانہ بنانے کی صلاحیت ماند پڑجائے گی۔

عراق میں شام کی سرحد کے نزدیک واقع مغربی ضلع القائم میں کتائب حزب اللہ کے ہیڈکوارٹرز پرایک فضائی حملے میں متعدد جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔تاہم فوری طور پر ان کی حتمی تعداد نہیں بتائی گئی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اسی ماہ کے اوائل میں ایران کی حمایت یافتہ فورسز پر عراق میں فوجی اڈوں پر پے درپے حملوں کا الزام عاید کیا تھا۔انھوں نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اس کی یا اس کے گماشتہ گروپوں کی جانب سے امریکی یا اتحادی فورسزکو نقصان پہنچانے کے لیے حملوں کا امریکا فیصلہ کن جواب دے گا۔‘‘