.

سعودی عرب میں بدھ سے 'نان اسٹاپ' تجارتی سرگرمیوں کا آغاز

چوبیس گھنٹے کاروبار کے لیے ایک دکان کی فیس سالانہ ایک لاکھ ریال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی کابینہ کی طرف سے چند ماہ قبل ملک کے بڑے شہروں میں چوبیس گھنٹے تجارتی سرگرمیوں کے فیصلے کو آئندہ بدھ سے نافذ العمل کیا جا رہا ہے۔ پرسوں بدھ کے روزسے سعودی عرب میں دن رات دکانیں کھلی رہیں گی اور کاروباری سرگرمیاں بغیر کسی وقفے کے جاری رکھ جاسکیں گی۔

ایک ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ تجارتی سرگرمیوں کو چوبیس گھنٹوں کے لیے چالورکھنے کے لیے ایک دکان کی زیادہ سے زیادہ فیس کی حد ایک لاکھ ریال مقرر کی گئی ہے۔ تاہم مختلف ویلیوز اور مصنوعات پرالگ الگ فیسوں کی تفصیلات پرمبنی فہرست جلد جاری کی جائے گی۔

سعودی کابینہ کے سابقہ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ وزیر بلدیات اور دیہی امور کی طرف سے وضع کردہ فریم ورک کے مطابق متعین فیس کے عوض کاروباری طبقے کو دکانیں چوبیس گھنٹے کھلی رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔

توقع ہے کہ اس فیصلے سے صارفین اور کاروباری طبقے دونوں کو فائدہ پہنچے گا اور ملک کی معیشت کو مزید پھلنے پھولنے کے مواقع ملیں گے۔ اندرون ملک میں سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہوگا۔

چوبیس گھنٹے کاروباری سرگرمیوں کی اجازت ملنے سے مملکت میں بہت سے شعبوں جیسے تفریح ، سیاحت ، نقل و حمل اور مواصلات ، اشیائے صرف کی طلب میں اضافے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور مقامی مصنوعات میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی شراکت میں اضافے کے مواقع پیدا ہوں گے۔

وزارت کے جاری کردہ شفاف اور مخصوص قوعد کے مطابق مطابق رات 12 بجے کے بعد سعودی عرب میں دکانیں کھولنے اور تجارتی سرگرمیوں کی آئندہ بدھ سے باقاعدہ اجازت ہوگی۔