.

لبنانی حزب اللہ نےعراق میں امریکا کے فضائی حملوں کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے عراق اور شام میں امریکا کےفضائی حملوں کی مذمت کردی ہے اور امریکا کی کارروائی کو عراق کی خود مختاری ، سلامتی اور استحکام پر جارحانہ حملہ قرار دیا ہے۔امریکا نے اپنے ایک شہری کی ہلاکت کے ردعمل میں ان حملوں میں ایران نواز شیعہ ملیشیا کتائب حزب اللہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

حزب اللہ نے سوموار کو ان حملوں کی مذمت میں ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں مدد کرنے والے گروپوں کو حملوں میں نشانہ بنانے پرامریکاپرکڑی تنقید کی ہے۔

امریکی فوج نے گذشتہ روز شام اور عراق میں ایران کی اتحادی ملیشیا کتائب حزب اللہ کے ٹھکانوں پر’’ دفاعی حملے‘‘ کیے تھے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے مطابق عراق اور شام میں کتائب حزب اللہ کے پانچ ٹھکانوں ، اسلحہ ڈپوؤں اور کمان اور کنٹرول مراکز کو ان حملوں میں ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا گیا ہے۔پینٹاگان کا کہنا ہے کہ انھیں یہ گروپ امریکا اور اس کی اتحادی فورسز پر حملوں کے لیے استعمال کررہا تھا۔

عراقی فوج اور کتائب حزب اللہ کے ذرائع کے مطابق عراق کے مغرب میں واقع ایک اڈے پر فضائی حملے میں پچیس جنگجو ہلاک اور پچپن زخمی ہوگئے ہیں۔ان میں زیادہ تر جنگجو شام کی سرحد کے نزدیک واقع عراق کے مغربی ضلع القائم میں کتائب حزب اللہ کے ہیڈکوارٹرز پرفضائی حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔مہلوکین میں کتائب حزب اللہ کے چار مقامی کمانڈر بھی شامل ہیں۔

امریکا نے دو روز پہلے عراق کے شمالی شہر کرکوک کے نزدیک عراقی فوج کے ایک اڈے پر راکٹ حملے میں کتائب حزب اللہ پرملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔اس حملے میں امریکا کا ایک سویلین کنٹریکٹر ہلاک ہوگیا تھا اور چار امریکی اور دوعراقی فوجی زخمی ہوگئے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اسی ماہ کے اوائل میں ایران کی حمایت یافتہ فورسز پر عراق میں فوجی اڈوں پر پے درپے حملوں کا الزام عاید کیا تھا۔انھوں نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اس کی یا اس کے گماشتہ گروپوں کی جانب سے امریکی یا اتحادی فورسزکو نقصان پہنچانے کے لیے حملوں کا امریکا فیصلہ کن جواب دے گا۔‘‘