.

مصراتہ میں پہلی مرتبہ "اجرتی جنگجو" براہ راست لیبیا کی فوج کے نشانے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج نے پہلی مرتبہ مصراتہ کی ملیشیا میں شامل ہونے والے نئے عناصر کو براہ راست حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ لیبیا کی فوج ان افراد کو "اجرتی جنگجو" قرار دیتی ہے۔ اس بات کا اعلان قومی فوج کے الکرامہ آپریشن روم کے میڈیا سینٹر نے کیا۔

مصراتہ ملیشیا طرابلس میں وفاق کی حکومت کے زیر انتظام ہے جب کہ خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبیا کی فوج وفاق کی حکومت پر دہشت گردوں کی سپورٹ کا الزام عائد کرتی ہے۔

پیر کے روز مصراتہ فورسز کے نام سے جانی جانے والی ملیشیا کے توپ خانے کے ذمے دار فرج مصطفی خلیل نے اطالوی حکومت اور یورپی یونین کے وزراء کو ایک پیغام بھیجا ہے۔ پیغام میں کہا گیا ہے کہ " آپ لوگوں کا وقت ختم ہو چکا ہے، ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ سمجھوتے سے رجوع کا کوئی امکان نہیں"۔ خلیل نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ طرابلس وغیرہ پر ہوابازی کی پابندی عائد نہ کریں۔

طرابلس میں وفاق کی حکومت نے ترکی کے ساتھ ایک عسکری سمجھوتا طے کیا ہے جس میں سمندری حدود شامل ہیں۔ اس سمجھوتے کے نتیجے میں یونان، قبرص اور مصر چوکنا ہو گئے ہیں کیوں کہ انہیں بحیرہ روم کے مشرق میں گیس کی تلاش کے علاقوں میں ترکی کی مداخلت کا اندیشہ ہے۔

ادھر مصری میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ خلیفہ حفتر آئندہ گھنٹوں کے دوران قاہرہ کا دورہ کریں گے۔

لیبیا میں قومی فوج نے رواں سال 4 اپریل کو طرابلس میں وفاق کی حکومت کے خلاف بڑے حملے کا آغاز کیا تھا۔ اس فوجی کارروائی کا مقصد دہشت گرد عناصر کی سپورٹ اور انہیں پناہ دینے میں ملوث حکومت کا سقوط ہے۔