.

مملکت کی فضاؤں میں ریڈیولوجیکل مواد کی سطح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی : سعودی کمیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں Nuclear and Radiological Regulatory Commission نے واضح کیا ہے کہ شعاؤں سے متعلق ماحولیاتی مانیٹرنگ کے نیٹ ورک کو اب تک مملکت کی فضاؤں میں شعاؤں کی سطح میں کسی تبدیلی کا پتہ نہیں چلا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کمیشن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ جمعے کے روز ایران میں آنے والے زلزلے کے بعد ماحولیاتی صورت حال کا جائزہ لے رہا ہے۔ یہ زلزلہ ایران کے جنوب مغرب میں بوشہر کے نیوکلیئر اسٹیشن سے 50 کلو میٹر سے بھی کم دوری پر واقع علاقے میں آیا۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.1 رہی اور اسے درمیانے درجے کا زلزلہ قرار دیا گیا۔

سعودی کمیشن کے مطابق وہ مملکت میں شعاؤں سے متعلق ماحولیاتی مانیٹرنگ کے اسٹیشنوں کو جدید بنانے اور ان کی تعداد بڑھا کر 140 تک پہنچانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ شعاؤں اور جوہری امور سے متعلق کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی استعداد میں اضافے اور اس حوالے سے مؤثر اور فعال منصوبہ بندی کو یقینی بنانے کے لیے مطلوبہ اقدامات عمل میں لائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ریڈیولوجیکل ایمرجنسی کے سلسلے میں ایک آپریشن روم قائم کیا جا رہا ہے جو جدید ترین ٹکنالوجی سے لیس ہو گا۔

کمیشن نے باور کرایا کہ وہ انسان اور ماحولیات کے تحفظ ،،، اور اس سلسلے میں بین الاقوامی معاہدوں اور سمجھوتوں کے حوالے سے سعودی عرب کی پاسداری سے متعلق اپنے اہداف کو یقینی بنا رہا ہے۔