.

عراق کی خودمختاری کا احترام کیا جائے: آیت اللہ السیستانی

سرکردہ شیعہ روحانی لیڈر نے ایران نوازملیشیا کتائب حزب اللہ پرامریکا کے فضائی حملوں کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سرکردہ مذہبی رہ نما آیت اللہ علی السیستانی نے ایران نواز شیعہ ملیشیا پر امریکا کے فضائی حملوں کی مذمت کردی ہے اور عراق کی خود مختاری کے احترام کا مطالبہ کیا ہے۔

آیت اللہ علی السیستانی کے دفتر نے سوموار کو ان کا ایک بیان جاری کیا ہے۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’ بعض فریقوں کی جانب سے غیر قانونی کارروائیوں کو عراق کی خود مختاری کی خلاف ورزی کے لیے ایک جواز اور بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘

آیت اللہ السیستانی نے کہا کہ ’’عراقی حکام اکیلے ہی اس طرح کی کارروائیوں سے نمٹنے کے مجاز ہیں اور وہی ان لوگوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے بھی ذمے دار ہیں۔ان سے یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ ایسے اقدامات خود کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ عراق علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات کو نمٹانے کا میدانِ جنگ نہ بنے۔‘‘انھوں نے واضح کیا ہے کہ دوسروں کو عراق کے داخلی امور میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

امریکی فوج نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب عراق میں ایران کی اتحادی ملیشیا کتائب حزب اللہ کے ٹھکانوں پر’’ دفاعی حملے‘‘ کیے تھے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے مطابق عراق اور شام میں کتائب حزب اللہ کے پانچ ٹھکانوں ، اسلحہ ڈپوؤں اور کمان اور کنٹرول مراکز کو ان حملوں میں ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا گیا تھا۔ پینٹاگان کا کہنا ہے کہ ان ٹھکانوں کو یہ گروپ امریکا اور اس کی اتحادی فورسز پر حملوں کے لیے استعمال کررہا تھا۔

عراقی فوج اور کتائب حزب اللہ کے ذرائع کے مطابق عراق کے مغرب میں واقع ایک اڈے پر فضائی حملے میں پچیس جنگجو ہلاک اور پچپن زخمی ہوگئے ہیں۔ان میں زیادہ تر جنگجو شام کی سرحد کے نزدیک واقع عراق کے مغربی ضلع القائم میں کتائب حزب اللہ کے ہیڈکوارٹرز پرفضائی حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔مہلوکین میں کتائب حزب اللہ کے چار مقامی کمانڈر بھی شامل ہیں۔