سیکڑوں عراقیوں کا بغداد میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا، فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق کے دارالحکومت بغداد میں سیکڑوں مشتعل مظاہرین نے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا ہے۔ انھوں نے سفارت خانہ کا بیرونی آہنی دروازہ توڑ دیا ہے، وہ اس کے احاطے میں گھس گئے اور وہاں سے فائرنگ اور سائرن بجنے کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔

عراقیوں نے منگل کے روز سفارت خانے پر یہ حملہ امریکی طیاروں کی اتوار کو عراق میں ایران نواز شیعہ ملیشیا کتائب حزب اللہ کے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری کے بعد کیا ہے۔اس کے نتیجے میں پچیس جنگجو ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

سفارت خانہ کے باہر عراقی سکیورٹی فورسز کے اہل کاروں اور عمارت کے اندر موجود امریکی سکیورٹی فورسز نے کتائب حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے یا اس کے ہمدرد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔ سفارت خانہ کے باہر موجود مظاہرین سے میگافون (صوت المکبر) کے ذریعے بھی منتشر ہونے کی اپیل کی گئی تھی لیکن انھوں نے اس کو نظرانداز کردیا۔انھوں نے وہاں سکیورٹی چبوترے کو بھی نذر آتش کردیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کی بہت تھوڑی مقدار استعمال کی گئی ہے اور سکیورٹی فورسز کے اہل کار صوت المکبر کے ذریعے ہی ان سے منتشر ہونے کا کہہ کررہے تھے۔مشتعل مظاہرین نے سفارت خانے کی بیرونی دیوار کے ساتھ نصب سکیورٹی کیمرے بھی توڑ دیے ہیں، عمارت کی جانب پتھراؤ کیا ہے اور وہاں احتجاج جاری رکھنے کے لیے خیمے گاڑ دیے ہیں۔

مظاہرین نے کتائب حزب اللہ کے پرچم اٹھا رکھے تھے،وہ امریکا مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔انھوں نے عمارت کے اندر پانی کی بوتلیں پھینکی ہیں۔ وہ بیرونی گیٹ کے ساتھ واقع استقبالیہ میں شیشے والی کھڑکیوں کے اندر بیٹھے سکیورٹی اہلکاروں پرطعن وتشنیع کرتے اور انھیں جلی کٹی سناتے رہے ہیں۔

انھوں نے کتائب حزب اللہ کی حمایت میں کھڑکیوں اور دروازوں پر نعرے لکھ دیے اور وہاں خاکے بھی بنائے ہیں۔ فوری طور پر اس تمام احتجاجی مظاہرے میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ سکیورٹی کے عملہ کو مظاہرین کے سفارت خانے کے باہر جمع ہونے کے بعد اندربلا لیا گیا تھا۔

العربیہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بغداد میں متعیّن امریکی سفیر اور دوسرا عملہ سکیورٹی ابتر ہونے کے خدشے کے پیش نظر پہلے ہی عراقی دارالحکومت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے کسی نامعلوم منزل کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سفارت خانہ میں اب بہت تھوڑا عملہ رہ گیا ہے۔

واشنگٹن نے عراقی شیعہ ملیشیا کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے ایک روز بعد سوموار کو عراقی حکام پر اپنے ملک میں ’’امریکی مفادات‘‘ کے تحفظ میں ناکامی کا الزام عاید کیا تھا۔امریکی فوج نے عراق اور شام میں کتائب حزب اللہ کے پانچ اہداف پر تباہ کن بمباری کی تھی۔اس نے یہ فضائی حملے گذشتہ جمعہ کو شمالی شہر کرکوک میں عراقی فوج کے ایک اڈے پر راکٹ میں ایک امریکی شہری کی ہلاکت کے ردعمل میں کیے تھے۔ایک امریکی عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایف 15 لڑاکا جیٹ کے ذریعے یہ حملے کیے گئے تھے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے مطابق عراق اور شام میں کتائب حزب اللہ کے پانچ ٹھکانوں ، اسلحہ ڈپوؤں اور کمان اور کنٹرول مراکز کو ان حملوں میں ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا گیا تھا۔ پینٹاگان کا کہنا ہے کہ ان ٹھکانوں کو یہ گروپ امریکا اور اس کی اتحادی فورسز پرعراق میں حملوں کے لیے استعمال کررہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں