شام سے 300 دہشت گرد'الوفاق' کی مدد کے لیے لیبیا پہنچ چکے:المسماری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لیبیا کی قومی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے دعویٰ کیا ہے کہ شام سے تین سو جنگجو دہشت گرد لیبیا کی قومی وفاق حکومت ساتھ مل کر لڑنے کے لیے لیبیا میں پہنچ چکے ہیں۔

'العربیہ' چینل سے بات کرتے ہوئے جنرل المسماری کا کہنا تھا کہ قومی وفاق اور اس کی معاون ملیشیا کی طرف سے سخت لڑائی کے باوجود قومی فوج الھضبہ کالونی کے اطراف میں پہنچ چکی ہے۔ دارالحکومت طرابلس پرقبضے کے حوالے سے اس کالونی کو غیرمعمولی تزویراتی اہمیت حاصل ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز لیبیا کی قومی فوج کےسربراہ جنرل خلیفہ حفتر لیبیا کے بحران پر بات چیت کے لیے مصرپہنچے ہیں جہاں انہوں نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔

العربیہ اور الحدث ٹی وی چینلوں کے ذرائع نے بتایا ہے کہ خلیفہ حفتر نے عالمی برادری کے سامنے مصر سے ترکی کی فوج اور جنگجوئوں کی لیبیا آمد روکنے کے لیے مدد کی درخواست کی ہے۔

انہوں نے لیبیا کے وسائل کی لوٹ مار کے ترکی کے عزائم کی روک تھام کے لیے عرب لابی کے قیام کی ضرورت پربھی زور دیا۔

انہوں نے لیبی فوج کی حمایت اور مددکرنے اور اسلحہ پر پابندی ختم کرنے پر بھی زور دیا۔

اتوار کے روز مصری میڈیا نے اطلاع دی کہ لیبیا کی نیشنل آرمی کے کمانڈر کچھ ہی گھنٹوں میں قاہرہ کا دورہ کریں گے۔اس دورے کا مقصد لیبیا کے منظر نامے میں ہونے والی پیشرفت پرمصری حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کرنا تھا۔

حفتر کا دورہ قاہرہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب لیبیا کی فوج لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے قلب کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں