شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں فوجی چوکیاں خالی نہیں کی جائیں گی: ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی نے شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں نگرانی کے لیے قائم کی گئی اپنی فوجی چوکیوں کو خالی کرنے سے انکار کردیا ہے۔

ترک وزیردفاع حلوسی عکار نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ان فوجی چوکیوں کو خالی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔روس اور شامی فوج نے حالیہ دنوں میں باغی گروپوں کے زیر قبضہ رہ جانے والے واحد صوبہ ادلب میں واقع مختلف شہروں اور قصبوں پر حملے تیز کردیے ہیں جس کے بعد ترکی پر نگرانی کی چوکیوں کو خالی کرنے کے لیے دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔

ادلب میں ترکی کی ایسی 12 فوجی چوکیاں قائم ہیں اور وہ خود قریباً 37 لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے۔دنیا میں کسی بھی ملک میں مہاجرین کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔ترک حکام نے حال ہی میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ادلب میں باغی گروپوں کے خلاف روس اور شامی فوج کی تباہ کن کارروائی کے نتیجے میں مزید ہزاروں افراد بے گھر ہوسکتے ہیں۔

ادلب میں اس وقت قریباً 30 لاکھ افراد رہ رہے ہیں۔القاعدہ اور دوسرے گروپوں کے زیر قبضہ اس صوبے میں گذشتہ برسوں کے دوران میں ملک کے دوسرے علاقوں سے بھی اہل سنت کی ایک بڑی آبادی کو لابسایا گیا تھا۔

ماضی میں باغی گروپوں کے زیر قبضہ شام کے ان علاقوں اور شہروں میں صدر بشارالاسد کی حکومت کی عمل داری قائم ہوچکی ہے۔انھوں نے جنگی کارروائیوں یا جنگ بندی کے نتیجے میں ان علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا تھا۔حال ہی میں بشار الاسد نے ادلب پر بھی دوبارہ قبضے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق روسی اور شامی فوج کی حالیہ کارروائیوں کے بعد اس صوبے سے پچاس ہزار سے زیادہ افراد ترکی کے سرحدی علاقے کی جانب نقل مکانی کر گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں