عراق میں امریکی سفیر نامعلوم مقام کی جانب روانہ : ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق میں امریکی سفیر میتھیو ٹیولر دارالحکومت بغداد سے نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ بات ذرائع نے العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے کو بتائی۔ ذرائع کے مطابق امریکی سفیر اور بقیہ سفارتی ملازمین نے بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ذریعے کوچ کیا۔

العربیہ کے نمائندے نے اس خبر پر عراقی وزارت خارجہ کا موقف جاننے کی کوشش کی تاہم وزارت خارجہ نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اس سے قبل عراقی وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ بغداد میں امریکی سفیر کو طلب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تا کہ انہیں عراقی حزب اللہ ملیشیا کے ٹھکانوں پر بم باری کے حوالے سے عراقی حکومت کی مذمت سے آگاہ کیا جا سکے۔

عراقی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں امریکی افواج کے اس اقدام کی مذمت کی گئی جس میں الحشد الشعبی سے متعلق بریگیڈز کے صدر دفاتر کو بم باری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بیان میں امریکی کارروائی کو عراق کی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی شمار کیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بین الاقوامی اتحاد میں شریک یورپی ممالک کے ساتھ مشاورت کی جائے گی تا کہ عراق میں اتحادی افواج کے وجود کے مستقبل کے حوالے سے ایک یکساں موقف سامنے آ سکے۔

امریکا نے عراقی حکام پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ امریکی مفادات کے "تحفظ" کے لیے مطلوبہ کوششیں نہیں کر رہے ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک اعلی ذمے دار نے واشنگٹن میں صحافیوں نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ "ہم بارہا عراقی حکومت کو خبردار کر چکے ہیں ، ہم نے اس کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا تا کہ وہ ہمارے مہمان ہونے کی حیثیت سے ہماری حفاظت کے سلسلے میں اپنی ذمے داری پوری کرنے کے واسطے مل کر کام کرے"۔

مذکورہ ذمے دار نے یاد دہانی کرائی کہ امریکی فوج اور امریکی سفارت کار عراقی حکومت کی دعوت پر وہاں موجود ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ "عراق میں حالیہ حملوں کے بارے میں امریکی رد عمل کے بعد میں نے آج اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس سے بات کی ہے اور انہیں اس حوالے سے اطمینان دلایا کہ یہ کارروائی دہشت گردی کے خلاف جنگ، امریکی شہریوں اور ان کے مفادات کے تحفظ کے زمرے میں آتی ہے"۔

ان ما کہنا تھا کہ میں نے واضح کیا کہ ہمارے دفاعی اقدام کا مقصد ایران کو روکنا اور امریکیوں کی جانوں کا تحفظ کرنا ہے۔

واضح رہے کہ 28 اکتوبر کے بعد سے عراق میں فوجی اڈوں پر 11 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ ان اڈوں پر امریکی فوجی اور سفارت کار بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس دوران بغداد میں انتہائی سخت سیکورٹی والے حساس ترین علاقے گرین زون میں امریکی سفارت خانے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ابتدائی 10 حملوں میں متعدد عراقی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے اور مادی نقصان بھی پہنچا۔ تاہم جمعے کے روز کرکوک میں ہونے والے حملہ اس لحاظ سے زیادہ سنگین ثابت ہوا کہ اس میں ایک امریکی دفاعی ٹھیکے دار مارا گیا۔ امریکی ذریعے کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب ایک ایسے فوجی اڈے پر 36 راکٹ آ کر گرے جہاں امریکی فوجی موجود ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں