.

الحشدالشعبی کے کمانڈر کی سعودی عرب ، یو اے ای اور بحرین کے سفارت خانوں پر حملوں کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی ( پی ایم ایف) کی ایک شاخ کتائب سیّد الشہداء کے سیکریٹری جنرل نے بغداد میں سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے سفارت خانوں پر امریکی ایمبیسی ایسے حملوں کی دھمکی دی ہے۔

پی ایم ایف کے لیڈر ابو علا الولی نے ایک ٹویٹ میں خبردار کیا ہے کہ ’’جب الحشد الشعبی کی فورسز بغداد میں طاغوت کے سفارت خانے کے محاصرے کی صلاحیت کی حامل ہیں تو پھر وہ بہت جلد عراق میں امریکا کے فوجی اڈوں کا بھی گھیراؤ کریں گی اور وہ (عراقی دارالحکومت میں) سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور دوسرے ممالک کے سفارت خانوں کا بھی محاصرہ کریں گے۔‘‘

لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراقی ملیشیاؤں کی بغداد میں سفارت خانے پراس دھاوے کے ردعمل میں سخت دھمکی آمیز بیان جاری کیا ہے۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’’اگر ہماری کسی تنصیب میں کوئی جانیں ضائع ہوتی ہیں یا مالی نقصان ہوتا ہے تو ایران اس کا مکمل ذمے دار گردانا جائے گا۔انھیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔یہ محض انتباہ نہیں بلکہ ایک دھمکی ہے۔‘‘

تاہم اس سخت دھمکی آمیز بیان کے چند گھنٹے کے بعد وہ اپنے لب ولہجے میں نرمی لائے ہیں اور انھوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ کوئی جنگ نہیں چاہتے ہیں۔

بغداد میں سیکڑوں مشتعل مظاہرین نے منگل کے روز امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا اور پھر اس کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ انھوں نے سفارت خانے کا بیرونی آہنی دروازہ توڑ دیا تھا اور بیرونی سکیورٹی چبوترے کو نذر آتش کردیا تھا۔اس کے بعد وہ سفارت خانے کے احاطے میں گھس گئے تھے اور وہاں دھرنا شروع کردیا تھا۔

مشتعل عراقیوں نے سفارت خانے پر یہ حملہ امریکی طیاروں کی اتوار کو عراق میں ایران نواز شیعہ ملیشیا کتائب حزب اللہ کے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری کے ردعمل میں کیا تھا۔اس کے نتیجے میں 25 جنگجو ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کا کہنا ہے کہ یہ فضائی بمباری عراقی ملیشیا کے امریکا کی اتحادی فورسز پر بار بار کے حملوں کے ردعمل میں کی گئی ہے۔کتائب حزب اللہ نے گذشتہ جمعہ کو شمالی شہر کرکوک میں امریکی فوج کے ایک اڈے پر 30 راکٹ فائر کیے تھے جن کے نتیجے میں ایک امریکی ٹھیکےدار ہلاک ہوگیا تھا۔