.

امریکا کو عراق میں کسی بھی منسوب رد عمل سے خبردار کرتے ہیں : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بغداد میں امریکی سفارت خانے پر عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے دھاوے کے حوالے سے اپنے پہلے تبصرے میں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ عراق کے واقعات کے حوالے سے "کوئی بھی منسوب رد عمل" سامنے نہیں آنا چاہیے۔

ایرانی حکومت کے ترجمان نے امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی میں تہران کے کسی بھی کردار کی سختی سے تردید کی۔ یہ موقف ایران نواز عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے ٹھکانوں پر امریکی بم باری پر تبصرہ کرتے ہوئے سامنے آیا۔ بم باری کی یہ کارروائی عراق میں امریکی اڈے پر راکٹوں سے حملے کے جواب میں کی گئی۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کا میڈیا گذشتہ دونوں کے دوران کرکوک میں امریکی اڈے پر بم باری کو سراہتا رہا۔ حملے میں ایک امریکی شہری ٹھیکے دار ہلاک ہو گیا۔ اس دوران ایرانی عسکری ذمے داران نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ عراق سے کوچ کر جائے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "اِرنا" کے مطابق موسوی نے امریکا کے اس موقف کو مسترد کر دیا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ امریکی سفارت خانے پر حملے میں ایران کا ہاتھ ہے۔ موسوی کے نزدیک امریکا نے عراقی عوام کو ضرر پہنچایا ہے اور عراقی کسی طور بھی الحشد الشعبی کے ارکان کی ہلاکت پر خاموش نہیں رہیں گے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکا کو "کسی بھی غیر ذمے دارانہ رد عمل اور حساب کتاب میں غلطی" سے خبردار کیا۔ موسوی نے وائٹ ہاؤس پر زور دیا کہ وہ خطے میں اپنی تباہ کن پالیسی پر نظر ثانی کرے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایران پر عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکا کے سفارت خانے پر حملہ کرانے کا الزام عائد کیا۔ اس سے قبل بغداد میں سیکڑوں مشتعل مظاہرین نے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا ہے۔ انھوں نے سفارت خانے کا بیرونی آہنی دروازہ توڑ دیا اور اس کے احاطے میں گھس گئے۔ پھر وہاں سے فائرنگ اور سائرن بجنے کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

ٹرمپ نے ٹویٹ میں مزید لکھا کہ "اب ایران نے عراق میں امریکی سفارت خانہ پر حملے کی سازش کی ہے۔ انھیں (ایرانیوں کو) اس حملے کا مکمل طور پر ذمے دار گردانا جائے گا۔ مزید یہ کہ ہم عراق سے یہ توقع کرتے ہیں کہ اس کی فورسز سفارت خانے کا تحفظ کریں گی"۔

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے نمائندے اور سرکاری اخبار "کیہان" کے ایڈیٹر انچیف حسين شريعتمداری نے اکتوبر میں اخبار کے ایک اداریے میں عراقیوں پر زور دیا تھا کہ وہ 1979 میں ایرانی انقلابیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیں۔

واضح رہے کہ عراقی مظاہرین ہمیشہ "إيران برة برة.. بغداد تبقى حرة" (ایران خیرباد .. بغداد رہے آزاد) کے نعرے لگاتے رہے ہیں۔