.

بغداد: امریکی سفارت خانے میں تمام قونصلر سرگرمیاں تاحکم ثانی معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے نے بدھ کے روز عوام کے لیے تمام قونصلر سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔اس نے یہ فیصلہ ایران نواز ملیشیاؤں اور ان کے حامیوں کے سفارت خانے کی عمارت پر حملے کے ایک روز بعد کیا ہے۔مشتعل عراقی مظاہرین نے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بولنے کے بعد بیرونی گیٹ اور سکیورٹی چبوترے کو نذر آتش کردیا تھا اور عمارت کی جانب پتھراؤ کیا تھا۔

امریکی سفارت خانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ملیشیاؤں کے ایمبیسی کے کمپاؤنڈ پر حملے کے بعد تمام قونصلر سرگرمیاں تاحکم ثانی معطل کی جارہی ہیں۔ مستقبل میں ہونے والی تمام طے شدہ ملاقاتیں منسوخ کی جارہی ہیں۔امریکی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سفارت خانے سے رجوع نہ کریں۔‘‘

سفارت خانے کےاس اعلان سے قبل ایران نواز ملیشیاؤں نے اس کے احاطے کو خالی کردیا تھا۔انھیں شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی نے ایسا کرنے کا حکم دیا تھا۔وہ اپنا سامان ٹرکوں پر لاد کر بغداد کے علاقے گرین زون میں واقع سفارت خانے سے واپس چلے گئے ہیں۔

بغداد میں سیکڑوں مشتعل مظاہرین نے منگل کے روز امریکی سفارت خانے کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ انھوں نے سفارت خانے کا بیرونی آہنی دروازہ توڑ دیا تھا اور بیرونی سکیورٹی چبوترے کو نذر آتش کردیا تھا۔اس کے بعد وہ سفارت خانے کے احاطے میں گھس گئے تھے اور وہاں دھرنا شروع کردیا تھا۔ تاہم وہ مرکزی عمارت میں داخل نہیں ہوئے تھے۔

مشتعل عراقیوں نے سفارت خانے پر یہ حملہ امریکی طیاروں کی اتوار کو عراق میں ایران نواز شیعہ ملیشیا کتائب حزب اللہ کے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری کے ردعمل میں کیا تھا۔اس کے نتیجے میں 27 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔مہلوکین میں کتائب حزب اللہ کے چار سرکردہ کمانڈر بھی شامل تھے۔