.

ہمارے ارکان اور حامی عراق کے دفاع کے لیے تیار ہیں : مقتدی الصدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں الصدری گروپ کے سربراہ مقتدی الصدر نے جمعے کے روز بغداد میں امریکی فضائی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور عراقی گروپوں کے رہ نماؤں کی ہلاکت پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ اُن کے پیروکار عراق کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔

جمعے کے روز جاری بیان میں الصدر نے کہا کہ سلیمانی کو نشانہ بنانا درحقیقت جہاد، مزاحمت اور انقلاب کی روح کو نشانہ بنانا ہے۔ انہوں نے عراقی مزاحمت کاروں بالخصوص جیش مہدی اور الیوم الموعود بریگیڈز کو حکم دیا کہ وہ عراق کی حفاظت کے لیے پوری طرح تیار رہیں۔

الصدر نے تمام لوگوں پر زور دیا کہ وہ دانش مندی کا مظاہرہ کریں تا کہ خطے کو خطرے سے دوچار ہونے سے بچایا جا سکے۔

اس سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے آج جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ اس کی ذیلی تنظیم القدس فورس کا سربراہ قاسم سلیمانی امریکی بم باری میں ہلاک ہو گیا ،،، سلیمانی کی گاڑی کو بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر نشانہ بنایا گیا۔

ادھر عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے ترجمان احمد الاسدی نے بھی بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایک گاڑی پر بم باری کے نتیجے میں القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور الحشد الشعبی کے اہم رہ نما ابو مہدی المہندس کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ اس سے قبل عراق کے سرکاری ٹی وی نے دونوں شخصیات کی ہلاکت کی خبر دی تھی۔ سلیمانی اور ابو مہدی کی لاشوں کی باقیات کو بغداد کے المثنی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس آپریشن کا آغاز جمعے کو علی الصبح اس وقت ہوا جب ایرانی پاسداران انقلاب کے بعض رہ نما الحشد الشعبی ملیشیا کے متعدد رہ نماؤں اور ارکان کے ساتھ بغداد کے ہوائی اڈے سے باہر نکل رہے تھے۔ اس دوران جنوبی مرکزی دروازے کی جانب موجود ان افراد کو امریکی طیاروں نے میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔ ہلاک ہونے والوں میں القدس فورس کا سربراہ قاسم سلیمانی، الحشد الشعبی ملیشیا میں دوسرا اہم ترین شخص ابو مہدی المہندس، ملیشیا میں تعلقات عامہ کا ذمے دار محمد رضا الجابری اور ملیشیا میں گاڑیوں کے امور کا ذمے دار حیدر علی وغیرہ شامل ہیں۔ا

اسی طرح متعدد کٹی پھٹی لاشیں ہیں جن کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی۔