.

ایرانی جنرل کی ہلاکت کے بعد مزید 3000 امریکی فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سینیر عہدیدار جنرل قاسم سلیمانی کی کل جمعہ کو عراق میں ایک فضائی آپریشن میں ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے تناظر میں مزید تین ہزار فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی افواج کو بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظرمیں لیے جانے والے احتیاطی اقدام کے طور پر فورسز کے 82 ویں ایئر بورن ڈویژن سے مزید تین ہزار فوجیوں کو مشرق وسطیٰ کے لیے بھیجا جائے گا۔

امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فوج کو رواں ہفتے کویت بھیجے گئے ساڑھے سات سو فوجی بھی شامل ہوں گے۔

خیال رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک آپریشنل کارروائیوں میں ملوث القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو گذشتہ روز بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب بمباری سے ہلاک کردیا تھا۔ ان کے ہمراہ کئی ایرانی اور الحشد ملیشیا کے کمانڈر بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد مشرق وسطیٰ میں نئی کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ ایران نے اس قتل کو امریکا کے شیطانی اور گھنائونے کھیل کا حصہ قرار دیتے ہوئے سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو دیگر سینیر عہدیداروں کے ہمراہ قاسم سلیمانی کی رہائش گاہ پر ان کے اہل خانہ کو پرسہ دیتے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔

قبل ازیں ایران کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی برائن ہک نے العربیہ کو بتایا تھا کہ جنرل سلیمانی امریکی مفادات پر حملوں کی منصوبہ بندی کی تیاری کر رہے تھے۔ ہک نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قاسم سلیمانی کو میدان جنگ سے ہٹا دیا اور یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

سلیمانی کے قتل کے بعد امریکی صدر نے ٹویٹ کیا کہ ایران نے کبھی جنگ نہیں جیتا لیکن اس نے کسی بھی مذاکرات میں شکست نہیں کھائی ہے۔ ان کا اشارہ ایران کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دینے کی طرف تھا۔

اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ سلسلہ وار ٹویٹس میں ٹرمپ نے کہا ک سلیمانی نے طویل عرصے تک ہزاروں امریکیوں کو ہلاک یا زخمی کیا۔ اسے کئی سال پہلے مار دیا جانا چاہیئے تھا۔