سلیمانی کو 11700 کلو میٹر دور بیٹھ کر قطر سے داغے گئے میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دنیا کے کروڑوں لوگ یہ جانتے ہیں کہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب بغداد کے ہوائی اڈے کے نزدیک دو گاڑیوں میں سوار قاسم سلیمانی اور اس کے دیگر ساتھیوں کو کس طرح ہلاک کیا گیا، تاہم یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ سلیمانی کو نشانہ بنانے والے دو میزائل درحقیقت MQ-9A Reaper ماڈل کے ڈرون طیاروں میں نصب تھے۔ یہ دونوں میزائل حملے کے مقام سے 1100 کلو میٹر دور "العديد" کے امریکی اڈے سے داغے گئے تھے۔ ان میں سے ایک میزائل نےToyota SAU ماڈل کی گاڑی کے پرخچے اڑا دیے اور اس میں سوار افراد کی لاشوں کے ٹکڑے سڑک پر بکھر گئے۔

جنرل قاسم سلیمانی کے اصل قاتل کے بارے میں امریکی عسکری اہل کاروں کی تھوڑی سی تعداد جانتی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی جانب سے تصوراتی منظر نامے کے مطابق یہ قاتل امریکا کے انتہائی جنوب مغرب میں واقع ایک فوجی اڈے میں اپنی نشست پر اطمینان کے ساتھ بیٹھا ہو گا۔ نیواڈا ریاست میں واقع Creech Air Force Base کا یہ مقام عراقی دارالحکومت بغداد سے 11700 کلو میٹر دور ہے۔ مقامی وقت کے مطابق امریکا میں جمعرات کی دوپہر کے 2:30 بج رہے تھے۔

Advertisement

جس اہل کار کو سلیمانی کے قتل کی ذمے داری سونپی گئی تھی اس نے ٹی وی اسکرین کی معاونت سے اپنا مشن پورا کیا۔ مذکورہ قاتل نے اس مشین کا بٹن دبایا جس نے ڈرون طیارے کو اڈے سے اڑان بھرنے کا حکم جاری کیا۔ اس طرح دونوں گاڑیوں میں سے ہر ایک کو لیزر یا ریڈار گائیڈڈ AGM-114 Hellfire میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

اس میزائل کی لمبائی ایک میٹر اور 60 سینٹی میٹر ، قطر صرف 18 سینٹی میٹر اور پہنچ 8000 میٹر ہے۔ اس میزائل کی قیمت 1.17 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔ اس کو کسی بھی پلیٹ فارم یا لانچر سے داغا جا سکتا ہے۔ ڈرون طیارے کے ذریعے سے داغے جانے پر یہ میزائل 1600 كيلومتر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے۔ اس طرح یہ اپنے نشانے پر 8 کلو گرام دھماکا خیز مواد یا گولہ بارود کے ساتھ جا کر ٹکراتا ہے۔

اس ہتھیار کو استعمال کرنے والا میزائل کو ریڈار کے ساتھ مربوط کر دیتا ہے اور ہدف کا تعین لیزر کے ذریعے کرتا ہے۔ اس طرح یہ مشن بہت آسانی سے مکمل ہو جاتا ہے جو کہ روایتی طریقے سے نہایت دشوار ثابت ہو۔

قاسم سلیمانی کو اس بات کا اچھی طرح سے اندازہ تھا کہ امریکا اس کا تعاقب کر رہا ہے۔ بالخصوص ٹرمپ کے دور میں جب کہ جولائی 2018 میں اپنی شعلہ بیاں تقریر کے دوران سلیمانی نے امریکی صدر کو دھمکی دینے کے ساتھ ٹرمپ کی توہین بھی کی۔ سلیمانی کا کہنا تھا کہ "آج کے بعد بحر احمر امریکیوں کی موجودگی کے لیے محفوظ نہیں رہا"۔ ایرانی کمانڈر نے ٹرمپ کو نصیحت بھی کی تھی کہ وہ اپنے سابقہ صدور کے تجربات سے عبرت حاصل کریں۔ سلیمانی نے مزید کہا کہ "یہ جنگ تمہارا سب کچھ تباہ کر ڈالے گی۔ اس کا آغاز آپ لوگ کریں گے مگر اس کے اختتام کا فیصلہ ہماری مرضی سے ہو گا!

مقبول خبریں اہم خبریں