.

عراقی فوج نے ھادی العامری کو 'الحشد' ملیشیا کا نیا نائب سربراہ نامزد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ ملکی فوج نے ھادی العامری کو الحشد الشعبی [پاپولر موبلائزیشن] ملیشیا کا نیا نائب سربراہ نامزد کیا ہے۔

عراقی نیوز ایجنسی نے مسلح افواج کے ترجمان کے حوالے سے بتای ہے کہ گذشتہ روز امریکی فضائی حملے میں پاپولر موبلائزیشن فورس کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کی ہلاکت کے بعد فوج نے ھادی العامری کو الحشد ملیشیا کا نائب سربراہ نامزد کیا ہے۔

اس سے قبل عراقی فوج نے بغداد ہوائی اڈے پر پرامریکی فوجی آپریشن کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے امریکی فوج کی حدود سے تجاوز اور مینڈیٹ کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ امریکی فوج کے آپریشن میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور کئی ایرانی اور عراقی جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔

جُمعہ کے روز عراقی فوج نے ایک بیان جاری کیا جس میں اس نے مشترکہ کارروائی کے کمان دار جعفر الابراہیمی کے مارے جانے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ خیال رہے کہ جعفر الابراہیمی کو اس کی تنظیمی نام ابو مہدی المہندس سے جانا جاتا تھا۔ بیان میں عراقی فوج نے کہا تھا کہ امریکی فوج نے ایک بزدلانہ حملے میں عراقی اور ایرانی کمانڈروں کو نشانہ بنایا ہے۔

عراقی فوج کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ جو کچھ ہوا وہ عراق کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ امریکی افواج کے داعش سے نمٹنے اور عراقی افواج کو مدد اور معاونت فراہم کرنے کے مخصوص دائرہ کار سے تجاوز ہے۔

ادھر عراق نے آج ہفتے کے روز قاسم سلیمانی اور، ابومہدی المہندس اور دیگر مقتول کمانڈروں کیی آخری رسومات کی ادائی کا اعلان کیا ہے۔

ابو مہدی المہندس کون ہیں؟

عراقی پاپولر موبلائزیشن ملیشیا کے نائب کے طور پر کام کرنے والے مقتول ابو مہدی المہندس کا اصل نام جمال جعفر ہے۔ اس کے پاس عراق اوران کی دہری شہریت بھی ہے، اسے المہندس یعنی انجینیر کا لقب دیا گیا کیونکہ وہ کئی بڑی کارروائیوں کا منصوبہ ساز تھا۔

الہندس کے 19 تنظیمی نام ہیں، وہ الحشد ملیشیا کا نائب اور تنظیم کا دوسرا اہم ترین لیڈر تھا۔ اس نے 1980ء سے 1988ء کے دوران عراق۔ ایران جنگ کے دوران جنگ میں حصہ لیا اور ایک بڑی عراقی ملیشیا تشکیل دی۔

المہندس سنہ1981ء میں بیروت میں عراقی سفارت خانے پر بم دھماکے سمیت عراق کے اندر اور باہر ہونے والے قتل اور بم دھماکوں میں ملوث رہا۔ اس نے سنہ 1983ء میں بیروت میں امریکی سفارت خانے پر حملے اور 1983 میں کویت میں امریکی اڈے پر بمباری کا بھی منصوبہ بنایا تھا۔

سنہ 1985ء کو اس نے کویت کے امیر کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی صدام حسین کے وزیر خارجہ طارق عزیز کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا۔ سنہ 2009ء کو امریکا نے المہندس پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔