.

بیروت کی شاہراہوں پر قاسم سلیمانی کے تصویری پوسٹروں کی بھرمار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی فوج کی ایک فضائی کارروائی میں ہلاک ہونے والے ایرانی پاسداران انقلاب کی 'قدس فورس' کے سربراہ قاسم سلیمانی کے ساتھ بیروت میں اظہار یک جہتی کیا جا رہا ہے۔ بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ملانے والی مرکزی شاہراہ کے بل بورڈز پر اس وقت سلیمانی کی تصاویر پرمبنی پوسٹرچھائے ہوئے ہیں۔

جمعہ کوعلی الصباح سلیمانی جیسے ہی شام سے بغداد پہنچے تو انہیں امریکا کے ایک ڈرون طیارے سے میزائل داغ کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس کارروائی میں عراق کی الحشد ملیشیا کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس اور کئی دوسرے ایرانی اور عراقی جنگجو ہلاک ہوگئےتھے۔

سلیمانی کے قتل کی خبر پھیلنےکے بعد بیروت میں مرکزی شاہراہوں پر بڑی تعداد میں پوسٹر اور بینرز لگائے گئے جن میں قاسم سلیمانی کو'شہید' قرار دینے کے ساتھ ان کی 'مزاحمتی' سرگرمیوں میں معاونت کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔بیروت کی شاہراہوں پر سلیمانی کی تصاویر ایران کے اثرو نفوذ کی عکاسی کرتی ہیں۔

بعض شہریوں نے بیروت میں ہوائی اڈے کے اطراف میں سلیمانی کی تصاویر آویزاں کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سلیمانی کی تشہیر کے لیے سڑکوں کے اطراف میں لگائے گئے بل بورڈز کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ قاسم سلیمانی لبنانی شعیہ ملیشیا حزب اللہ ایران کےمعاون تھے۔ حزب اللہ کا شمار ایرانی پاسداران انقلاب کے پرودہ گروپوں میں ہوتا ہے۔ قاسم سلیمانی عراق، شام اور لبنان میں مسلسل آتے جاتے رہے تھے۔ ان کے ان ملکوں میں موجود ملیشیاؤں کے ساتھ گہرے تعلقات قائم رہے ہیں۔

حزب اللہ نے سلیمانی اور الحشد ملیشیا کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کے قتل پر امریکا سے بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ امریکا سلیمانی کے قتل کے جرم میں ضرور سزا پائے گا۔ سلیمانی کے قتل کا قصاص دنیا بھر کے مزاحمت کاروں پر فرض ہے۔