.

عراقی پارلیمان کا حکومت سے غیرملکی فوجیوں کی موجودگی جلد سےجلد ختم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی پارلیمان نے ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے ملک میں تعینات غیرملکی فوجیوں کی موجودگی جلد سے جلد ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ امریکا کی قیادت میں اتحاد کی جانب سے مدد کے لیے درخواست کو منسوخ کردے۔

عراق کی پارلیمان نے اتوار کو غیر معمولی خصوصی اجلاس میں اس قرارداد کی منظوری دی ہے۔اس سے قبل وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے اپنی تقریر میں پارلیمان پر زوردیا کہ وہ غیرملکی فوجیوں کی تعیناتی ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

انھوں نے کہا:’’عراق کو درپیش اندرونی اور بیرونی مشکلات کے باوجود ہمارے لیے اصولی اور عملی طور پر اسی میں بہتری ہے کہ غیرملکی فوجیوں کی موجودگی ختم کی جائے۔‘‘

عراقی وزیراعظم نے ایران کے میجر جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی ابوالمہندس کی ہلاکت کو ایک ’’سیاسی قتل‘‘ قراردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جمعہ کی صبح قاسم سلیمانی سے ملاقات کرنے والے تھے۔

انھوں نے واضح کیا کہ عراقی حکومت نے 31 دسمبر کو بغداد میں امریکی سفارت خانے پر ملیشیا کے حملے کی اجازت نہیں دی تھی جبکہ مقتول ابو مہدی المہندس نے ملیشیاؤں کو کنٹرول کرنے اور انھیں غلط کاریوں سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

انھوں نے پارلیمان کو امریکا کی اس اطلاع کے بارے میں بھی بتایا کہ عراق میں ملیشیاؤں کے اسلحہ ڈپوؤں پر بعض حملوں میں اسرائیل کا ہاتھ کارفرما تھا۔