.

سعودی عرب : نائٹ شفٹ میں کام کرنے والوں کو یہ حقوق حاصل ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں محنت اور سماجی بہبود کی وزارت نے العربیہ ڈاٹ نیت کو بتایا ہے کہ مملکت میں بازاروں کے 24 کھولے جانے کے فیصلے کے ضمن میں "نائٹ شفٹ ورکرز" کے حقوق متعین کیے گئے ہیں۔

مذکورہ وزارت کے سرکاری ترجمان خالد ابا الخیل کے مطابق نائٹ شفٹ ورکرز کو متعدد خصوصیات حاصل ہوں گی۔ ان میں خصوصی معاوضہ، شفٹ کے دورانیے میں رعایت، ٹرانسپورٹ الاؤنس اور رات کی شفٹ میں کام کرنے کا خصوصی الاؤنس شامل ہے۔

ابا الخیل نے مزید بتایا کہ نائٹ شفٹ میں کام کرنے والوں کے حقوق میں ترقی، تربیت اور ملازمت میں پیش قدمی کا حق بھی شامل ہے۔ اس لیے کہ عموما نائٹ شفٹ میں کام کرنے والوں کو اعلی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ بہت کم ہوتا ہے لہذا ان کو دیگر شفٹوں میں کام کرنے والے ساتھیوں کے مساوی حقوق فراہم کرنا لازم ہے۔

ابا الخیل کے مطابق اگر کسی شخص کے پاس ایسی میڈیکل رپورٹ ہے جس میں نائٹ شفٹ میں کام کرنے کو اس کی صحت کے لیے نامناسب قرار دیا گیا ہو تو اس پر رات کے اوقات میں کام نہیں کروایا جائے گا۔ اسی طرح حاملہ خاتون کو بھی وضع حمل سے 24 ہفتوں (6 ماہ) قبل نائٹ شفٹ سے مستثنی قرار دیا جائے گا۔

وزارت محنت و سماجی بہبود کے سرکاری ترجمان نے بتایا کہ نائٹ شفٹ کرنے والوں کے لیے قانون کے مطابق طبی خدمات، غذائی ضروریات اور ہنگامی صورت میں مطلوبہ اقدامات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

ابا الخیل کے مطابق متعلقہ وزارت کی جانب سے تفتیشی کارروائیاں انجام دی جائیں گی تا کہ سرکاری نجی سیکٹر میں وزارتی قوانین اور فیصلوں پر عمل درامد کو یقینی بنایا جا سکے۔

ابا الخیل نے واضح کیا کہ رات کے اوقات میں کام سے متعلق فیصلوں کا مقصد کام کی منڈی اور ماحول میں مزید بہتری لانا اور رات کے اوقات میں کام کرنے والوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔ انہوں نے تجارتی سرگرمیاں 24 گھنٹے جاری رکھنے کے لیے وزارت محنت و سماجی بہبود کی اجازت کے فیصلے کو سراہا اور کہا کہ اس سے مملکت میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔