.

پارلیمنٹ کے فیصلے کے خلاف عراق میں مظاہرے، جلاو گھیراو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ روزعراقی پارلیمنٹ کی طرف سے غیرملکی فورسز کے انخلاء کے مطالبے پرمبنی قرارداد کی منظور کے بعد ملک کے کئی شہروں میں اس قرارداد کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ عراقی پارلیمنٹ نے گذشتہ روز ایک قرارداد منظور جس میں ملک میں موجود تمام غیرملکی قوتوں کو نکال باہر کرنے کا مُطالبہ کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پارلیمنٹ کے فیصلے کے خلاف دارالحکومت بغداد میں لوگ نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور قرارداد کی مخالفت میں نعرے بازی کی۔

بغداد کے بعد احتجاج کادائرہ مزید پھیل گیا اور شیعہ آبادی کے اکثریتی شہر کربلاء میں بھی ہزاروں افراد نے جلوس نکالے۔ انہوں نے سڑکیں بلاک کردیں اور ٹائر جلا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ کربلا میں مظاہرین کے جلوسوں اور جلائو گھیرائو کی وجہ سے گورنری کے سرکاری دفاتر تک رسائی کے تمام راستے بند ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ کل اتوار کو عراقی پارلیمنٹ میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں ملک میں موجود تمام غیرملکی فورسز کو ملک سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں 'داعش' کے خلاف قائم عالمی اتحاد کے ساتھ سیکیورٹی معاہدہ ختم کرنے اور امریکی فوج کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ قرارداد میں عراق کی زمین اور فضاء کو کسی دوسرے ملک یا کسی بھی مقصد کے لیے غیرملکیوں کو استعمال کرنے کی اجازت دینے پر پابندی کا مطالبہ کیاگیا۔ یہ قرارداد عراقی پارلیمنٹ کے شیعہ عناصرکی طرف سے پیش کی گئی تھی تاہم اس موقعے پرکرد اور سنی مکتب فکر کے ارکان موجود نہیں تھے۔

قرارداد میں وضاحت کی گئی ہے کہ 'داعش' کے خلاف جنگ میں کامیابی کے بعد اب عراقی حکومت عالمی فوجی اتحاد سے مدد مانگنے کی مجاز نہیں رہی ہے۔ حکومت کو غیرملکی قوتوں کوعراق سے ہرصورت میں نکالنا ہوگا۔

درایں اثناء عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ غیرملکی فورسز کے ملک سے نکالنے کےلیے جلد از جلد اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگرچہ عراق کو کئی داخلی اور خارجہ چیلنجز کا سامنا ہے مگر بہتر ہے کہ عراق خود اپنے پائوں پر کھڑا ہو اور عملی اقدامات کا خود آغاز کرے۔

خیال رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ جمعہ کو امریکی فوج نے عراق میں امریکی پاسداران انقلاب کے جنرل قاسم سلیمانی اور عراق کی الحشد ملیشیا کے نائب سربراہ مہدی المہندس کو ڈرون حملے میں قتل کردیا تھا۔ اس کے بعد نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی پائی جا رہی ہے بلکہ عراق اور امریکا بھی سخت کشیدگی ہے۔