.

اربیل بیس پر میزائل حملہ ہدف حاصل نہ کر سکا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی عراق کے صوبے اربیل میں الحریر فوجی اڈے پر رات گئے ایرانی پاسداران انقلاب کی طرف سے کیے گئے میزائل حملوں میں اب تک کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

العربیہ اور الحدث چینلوں کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل نشانہ چوک گئے جس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے، تاہم الانبارمیں عین الاسد فوجی اڈے پر ہونے والے حملے میں نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اربیل بیس پر ایرانی حملے کے نتیجے میں امریکی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اربیل اور الانبار

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ایک سینیر عہدیدار نے کہا کہ عراق میں عین الاسد اڈے پر میزائل نے حملے کیے گئے ہیں تاہم اس حملے میں ہونے والے جانی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جوناتھن ہافمین نے مزید کہا کہ حملے کے نتیجے میں کسی قسم کے نقصان یا زخمی ہونے کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے ، لیکن انہوں نے زور دے کر کہا کہ عین لاسد اڈے پر امریکی فوجی ونگ کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

انہوں نے تصدیق کی کہ میزائل حملوں میں شمالی عراق میں اربیل میں بھی ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران کے اندر سے کارروائی

انہوں نے مزید کہا کہ بیلسٹک میزائل ایران کے اندر سے عراق میں امریکی فوجی تنصیبات پر فائر کیے گئے تھے ، جبکہ ایک کرد ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ میزائلوں کا منبع ایران میں کرمان شاہ تھا۔

دوسری جانب یہ اطلاع ملی ہے کہ مغربی عراق میں عین الاسد بیس کی فضاء میں امریکی ہیلی کاپٹر کی پروازوں کے ساتھ خطرے کے سائرن کی آوازیں سنائی گئی ہیں۔

ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوج کو نشانہ بنائے جانے کے بعد وائٹ ہائوس نے کہا ہے کہ امریکا عراق میں ایرانی حملے سے آگاہ ہے۔

وائٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ الانبار میں ہونے والے ایرانی حملے کے بارے میں صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ قومی سلامتی کی ٹیم سے جوابی کارروائی کے لیے صلاح مشورہ کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے میزائل حملوں سے ہونے والے نقصان کاجائزہ لیا جا رہا ہے۔